11

مردہ جانوروں کا کھانا پکانے والے شیف کی تلاش

شادیوں میں مزیدار پکوان مہمانوں کی خاص توجہ کا مرکز بنتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی شادی کے طعام نامے میں سڑک پر حادثات میں مر جانے والے جانوروں کے گوشت سے بنے پکوان کے بارے میں سُنا ہے؟

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے جوڑے کو ایک شیف کی تلاش ہے جو ان کی شادی کے موقع پر سڑک حادثات میں مر جانے والے جانوروں کے گوشت سے کھانے تیار کرے۔

جوڑے نے اس حوالے سے باقاعدہ ایک اشتہار بھی شائع کروایا ہے جس میں انہوں نے سڑک پر حادثات میں مرنے والے جانوروں کے گوشت سے کھانا تیار کرنے والے شیف کو بطور معاوضہ 5000 پاؤنڈ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

جوڑے نے اشتہار میں لکھا کہ انہیں ایک ایسے شیف کی تلاش ہے جو جانوروں کا کھانا بنانے میں ماہر ہو، جسے جانوروں کی کھال اُتارنے سے لے کر گوشت کے ٹکڑے کرنے اور مزیدار کھانا بنانے میں ملکہ حاصل ہو، اور کھانے کو اس طرح سے بنائے کہ مہمان یہ نہ پہچان پائیں کہ گوشت کہاں سے آیا ہے۔

برطانوی میڈیا کہ مطابق جوڑے نے اشتہار میں یہ بات بھی واضح کی ہے کہ انہوں نے سڑک پر حادثات میں مرنے والے جانوروں کا 20 کلو گوشت بھی جمع کیا ہوا ہے جس میں گلہری، چکور، خرگوش، ہرن اور دیگر جانور شامل ہیں۔

جوڑے کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ کسی عام شیف کو ہماری مدد کرنے میں خوشی نہیں ہو گی مگر ہمیں اُمید ہے کہ کوئی تو ایسا ہو گا جو ہمارے اس اچھے اقدام میں ساتھ دے گا جو ہم ماحول کی خاطر کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس گوشت جمع ہے، ہمیں بس صرف ایسے شیف کی ضرورت ہے جو ہماری شادی میں 30 افراد کے لیے اس گوشت سے مزیدار کھانے بنا سکے، ہمارے پاس فریج میں تقریبا 20 کلو گوشت موجود ہے۔

اس جوڑے نے یہ قدم اس لیے اُٹھایا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ دنیا میں مزید کھانا ضائع ہو، وہ پچھلے تین سالوں سے روڈ پر حادثاتی طور پر مرنے والے جانوروں کا کھانا کھاتے آ رہے ہیں اور وہ اپنی شادی پر بھی ایسا ہی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماحول ہمارے لیے بہت قیمتی چیز ہے اور ہمیں اس کی ایسے ہی قدر کرنی چاہیے جیسے ہم اپنے گھر والوں کی کرتے ہیں، ہمارے لیے پیسہ مسئلہ نہیں ہے، شادیوں کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہیں سب سے زیادہ کھانا بھی ضائع ہوتا ہے۔

واضح رہے کے برطانیہ میں روڈ پر حادثاتی طور پر مرنے والے جانوروں کا کھانا کھانے پر قانونی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن روڈ حادثے میں مرنے والے جانوروں کا گوشت بیچنا منع ہے۔

دوسری جانب بہت سے لوگوں کو اس بات پر اعتراض بھی ہے کہ وہ روڈ پر حادثاتی طور پر مرنے والے جانوروں کا کھانا کیوں کھائیں اور یہ صحت کے لیے تقصان کا باعث تو نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں