سیاست کی آڑ میں ریاست پر دشمنوں کی آلہ کاری ہے,نیربخاری
جو جماعت ملکی سالمیت کے خلاف عمل کرے اسکے خلاف ریفرینس سپریم کورٹ میں دائر ہو سکتا ہے،نیر بخارری
اسلام آباد:(جاگیرنیوز)پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمٹینز کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ ملکی سالمیت کے دشمن عناصر کی مدد آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے جو جماعت ملکی سالمیت کے خلاف عمل کرے اسکے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر ہو سکتا ہے، قومی سلامتی اداروں کے افسران اور جوان ملک و ملت کی حفاظت کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں،شہدا ءوطن کی قربانیوں کا تقاضہ ہے کہ ملک و ملت دشمنوں کے خلاف آئین اور قانون کی تحت کاروائی لازم ہے، افراتفری انتشار خلفشار پھیلانے اور طالبان سے ہمدردی اور تحفظ دینے والے عناصر کی حب الوطنی سوالیہ نشان ہے۔ نیر حسین بخاری نے مزید کہا ہے کہ افواج پاکستان اور سول اداروں پر حملے کرنے والی ٹی ٹی پی کے ہمدردو سہولت کار ناقابل معافی مجرمین ہیں اورملکی سالمیت کے دشمن عناصر کی مددگاری آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو جماعت ملکی سالمیت کے خلاف عمل کرے اسکے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر ہو سکتا ہے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قومی مفاد میں مذاکرات کو ترجیع دی مادر جمہوریت نصرت بھٹو سے بے نظیر بھٹو آصف زرداری بلاول بھٹو زرداری نے ملک اور جمہوریت کی خاطر زیادہ مخالفین سے مذاکرات کئے سیاسی اتحاد بنائے پیپلز پارٹی نے ملکی سلامتی کو ہمیشہ مقدم رکھا پیپلز پارٹی نے عدلیہ بارے شدید تحفظات کے باوجود عدالتوں سے ہی ریلیف لیا ۔ نیر بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوری نظام تسلسل کی خاطر 2024ءمیں بھی تمام فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی جمہوری نظام کےتسلسل کیلئے اکثریتی جماعت ن لیگ کوی پارلیمان میں حمایت کی ترمیم شدہ قوانین قوائد و ضوابط کے تحت اکثریت کی حمایت حاصل کرنے والا ممبر اپوزیشن لیڈر ہوگا ،پارلیمان کی فعالیت کیلئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری ضروری ہے۔ نیر بخاری نے کہا ہے کہ عمران خان سیاست کرنا ہی نہیں چاہتا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ایک دن مذاکرات پر رضامندی دوسرے دن پابندی پارلیمان میں موجود اپنے ممبران پر عدم اعتماد کیا راجہ ناصر اور اچکزئی پر بھی اعتماد نہیں کیا جا رہا ،پی ٹی آئی لیڈر شپ بھی سیاست نہیں کرنا چاہتی سزا یافتہ عمران خان کی رہائی مقصد رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ریلیف مزاحمت سے نہیں عدلیہ سے ملے گا پی ٹی آئی میں دھڑے بندیاں واضح ہیں سیکرٹری جنرل جماعت کے چیئرمین کو نہیں مانتے۔
انھوں نے کہا ہے کہ قومی ڈائیلاگ نامی تین لوگوں کا کوئی قد کاٹھ سیاسی وزن حیثیت اور اہمیت نہیں۔




