30 نومبر — پاکستان پیپلز پارٹی کا یومِ تاسیس

تحریر: میر شبیر علی بجرانی

30 نومبر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم دن ہے، وہ دن جس نے ملک کی سیاست، جمہوری اصولوں اور عوامی شعور کو ایک نیا رخ دیا۔ 1967ء میں لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے ساتھ ایک ایسی عوامی تحریک کی بنیاد رکھی گئی جو صرف ایک سیاسی جماعت نہیں تھی، بلکہ غریبوں، محنت کشوں، کسانوں اور مظلوم طبقات کے لیے امید کا پیغام بن کر اُبھری۔ یومِ تاسیس دراصل اُس سفر کا آغاز ہے جس نے عوام کی طاقت اور جمہوری قدروں کو حقیقی معنوں میں مضبوط کیا۔پارٹی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اُس وقت رکھی جب ملک سیاسی بے چینی اور معاشی مشکلات میں گھرا ہوا تھا۔ بھٹو صاحب کا نعرہ ”روٹی، کپڑا اور مکان “ محض ایک سیاسی نعرہ نہ تھا بلکہ لاکھوں محروم لوگوں کی ترجمانی کرتا ایک انقلابی آواز بن گیا۔ اس نعرے نے عوام کو پہلی بار احساس دلایا کہ ریاست اُن کی ہے اور اصل طاقت اُنہی کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔پیپلز پارٹی کا سیاسی سفر قربانیوں اور کامیابیوں کا امتزاج ہے۔ بھٹو خاندان کے کئی افراد نے شہادتیں قبول کیں، پارٹی کارکنان نے قید و بند اور مشکلات جھیلیں، لیکن جمہوری جدوجہد کا سلسلہ جاری رہا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے پارٹی کی اصل روح کو آگے بڑھایا۔ دنیا کی پہلی مسلم خاتون وزیرِاعظم بن کر انہوں نے ثابت کیا کہ قیادت نام کی نہیں بلکہ وژن، اخلاص اور بہادری کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ان کی شہادت پارٹی کے لیے انتہائی دکھ کا لمحہ تھی، مگر اس قربانی نے عوامی جذبے کو مزید مضبوط کیا۔
اس کے بعد پارٹی کی قیادت صدر آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں آئی، جنہوں نے نہ صرف جمہوری نظام کو بحال کیا بلکہ صبر، مفاہمت اور سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے ریاستی نظام کو مضبوط کیا۔ انہی کی قیادت میں تاریخی اٹھارویں ترمیم منظور ہوئی، جس نے صوبوں کو خودمختاری دی اور پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مستحکم کیا۔آج پارٹی کی قیادت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پاس ہے، جو نوجوان، بصیرت مند اور جدید سوچ رکھنے والے قائد ہیں۔ بلاول بھٹو کی قیادت عوامی حقوق، آئینی حکمرانی، برداشت اور ترقی یافتہ پاکستان کا مضبوط پیغام دیتی ہے۔ عوام سے اُن کے براہِ راست رابطے اور مضبوط سیاسی انداز نے پیپلز پارٹی کو نئی نسل کے لیے بھی امید کی علامت بنا دیا ہے۔پارٹی کی تاریخ میں 1973ء کا آئین، مزدوروں کے حقوق، زرعی اصلاحات، ایٹمی پروگرام کا آغاز، خواتین کے بااختیار بنانے کے اقدامات اور جمہوریت کی بحالی جیسی اہم کامیابیاں شامل ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پیپلز پارٹی صرف وعدوں کی سیاست نہیں کرتی بلکہ عمل، اصول اور قربانی کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں