آخری دہشت گرد کے خاتمے تک لڑیں گے، علی امین گنڈاپور
علی امین گنڈاپور نے پشاور میں پولیس شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خظاب کیا-فوٹو: فائل
ہمارا مقابلہ اندرونی اور بیرونی سازشوں سے ہے، پیسے ہوں یا نہ ہوں مگر ہماری ترجیح ہوگی کہ پولیس کو وسائل فراہم کریں، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور
جب تک امن قائم نہیں ہوگا ملک خوش حال نہیں ہوسکتا، دہشت گرد جو حملے کر رہے ہیں یہ جہاد نہیں جہالت ہے، دہشت گرد اپنی اصلاح کریں لوگوں کو شہید نہ کریں
پشاور: خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پولیس کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک لڑیں گے اور انہوں نے صوبے کی سرکاری ہاؤسنگ سوسائٹیز میں شہدا کے لواحقین کو پلاٹ دینے کا بھی اعلان کردیا۔پشاور میں پولیس کے شہداء سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ تقریب میں موجود شہداء کے لواحقین، پولیس غازیوں اور افسران کو سلام پیش کرتا ہوں .انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ اندرونی اور بیرونی سازشوں سے ہے، پیسے ہوں یا نہ ہوں مگر ہماری ترجیح ہوگی کہ پولیس کو وسائل فراہم کریں، آج ہم یوم شہدائے پولیس منا رہے ہیں، فوجی کا بیٹا اور بھائی ہوں، فوج اور تمام محکمے جنہوں نے شہادتیں دی ہے، ان سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پیسے ہوں یا نہ ہوں مگر ہماری ترجیح ہوگی کہ پولیس کو وسائل فراہم کرے، جب تک امن قائم نہیں ہوگا ملک خوش حال نہیں ہوسکتا، دہشت گرد جو حملے کر رہے ہیں یہ جہاد نہیں جہالت ہے، دہشت گرد اپنی اصلاح کریں لوگوں کو شہید نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جو امن اور خوشحالی کا ہوتاکہ ہم کامیاب ہوں، ہم نے پولیس کو فنڈز دے دیے ہیں، ضم اضلاع کی پولیس بھی دیگر اضلاع کے پولیس کے برابر ہے، آئی جی جلد از جلد پولیس شہداء کے کوٹے پر بھرتیاں کریں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے کی تمام سرکاری ہاؤسنگ سوسائٹیز میں شہداء کے خاندانوں کو پلاٹ دینے اور ٹریفک جرمانوں کے 20 فیصد شہداء کے خاندانوں کو دینے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے حوالے سے بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر پولیس سے الجھنا نہیں چاہیے۔علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ہم لڑیں گے، دہشت گرد جاہل لوگ، ہم شہداء کے ساتھ کھڑے ہیں، فخر ہے فورسز پر جو سرحد پر کھڑے ہوکر وطن کا دفاع کرتے ہیں۔




