ایف پی سی سی نےآئی کا آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں فرانزک آڈٹ کی استدعا کی کہ آئی پی پیز کو دیا گیا زائد منافع ریکور کرنے کا حکم دیا جائے-فوٹو : فائل

آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں ترمیم کرکے ادائیگی بجلی کی فراہمی سے مشروط کرنے کا حکم دیا جائے، عدالت آئی پی پیز سے متعلق 1994ء، 2002ء اور 2015ء کی پالیسیاں کالعدم قرار دے،درخواست گزار
ایف پی سی سی آئی نے استدعا کی کہ قرار دیا جائے کہ شہریوں کو سستی بجلی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے منافع نہیں کما سکتی

اسلام آباد: فیڈریشن آف چیمبر اینڈ کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) نے آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ایف پی سی سی آئی نے آئی پی پیز کے فرانزک آڈٹ کی استدعا کی کہ آئی پی پیز کو دیا گیا زائد منافع ریکور کرنے کا حکم دیا جائے۔درخواست گزار کی استدعا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں ترمیم کرکے ادائیگی بجلی کی فراہمی سے مشروط کرنے کا حکم دیا جائے، عدالت آئی پی پیز سے متعلقہ 1994، 2002 اور 2015 کی پالیسیاں کالعدم قرار دے۔ایف پی سی سی آئی نے استدعا کی کہ قرار دیا جائے کہ شہریوں کو سستی بجلی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے منافع نہیں کما سکتی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر اسد منظور بٹ نے پاور جنریشن پالیسی 1994ء کو غیر آئینی قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں