اسلام آباد پولیس کی سرپرستی:منشیات کے بین الصوبائی گینگز کا خاتمہ نہ ہوسکا

ریکارڈ یافتہ ایک منشیات فروش سائیں مجاہد کو محلہ ڈھکی سے 560 گرام آئس کے گرفتار کر کیالیکن باقی برآمدگی کے لیے کوئی کاروائی نہ کرکے ملزم کو قانونی قرار دیدیا

اسلام آباد:(جاگیرنیوز)وفاقی دارالحکومت کے حساس ترین مقام ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو سے ملحقہ آبادی نورپور شاہاں میں موجود منشیات کے بین الصوبائی گینگز کا خاتمہ متعلقہ پولیس کی مبینہ سرپرستی کے باعث ممکن نہیں بنایا جا سکا تاہم منشیات گینگ کے ریکارڈ یافتہ ایک منشیات فروش سائیں مجاہد کو محلہ ڈھکی سے 560 گرام آئس کے گرفتار کر لیا گیا لیکن باقی برآمدگی کے لیے کوئی کاروائی نہ کرکے ملزم کو قانونی قرار دیدیا گیا تاکہ جلدی باہر آکر باآسانی دوبارہ دھندہ کر سکے جس کی وجہ پولیس کی ملی بھگت سے معمولی برآمدگی اور گرفتار ریکارڈ یافتہ منشیات فروشوں سے بڑی کھیپ کی ریکوری کے لیے تفتیش کو آگے نہ بڑھانا ہے حالانکہ اسی محلہ ڈھکی میں ریکارڈ یافتہ بدنام زمانہ منشیات فروش مبشر حسین عرف بُلو،سائیں مدثر،سائیں عامر،سائیں ناصرحسین،اعجاز عرف جازی،شہزاد گوگی،مصدق عرف سنی و دیگر 20 منشیات فروش بھی موجود تھے اور مبینہ طور پر دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں تھانہ سیکرٹریٹ صرف ایک سال کے دوران درج منشیات کے تمام برآمدگی کے مقدمات کے تو درج کیے لیکن ریکارڈ یافتہ منشیات فروشوں کو سپلائی دینے والے کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق منشیات فروشوں اور پولیس کی آنکھ مچولی جاری ہے جہاں سے ریکارڈ یافتہ منشیات فروش جڑواں شہروں میں بھاری کھیپ پہنچا رہے ہیں لیکن پولیس سالانہ پاؤ،آدھا کلو اور ایک کلو کے روایتی مقدمات درج کرکے اعلی حکام کی آنکھوں میں دُھول جھونک کر اس منعظم دھندے کی مبینہ سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہیں اب تک کوئی بھاری کھیپ نہیں پکڑی جا سکی حالانکہ وہاں آئس ہیروئن افیون گردا چرس شراب منوں کے حساب سے منشیات گینگز ڈان منگواتے ہیں حیران کن امر یہ بھی ہے کہ اتنے حساس ترین علاقہ میں پولیس کی تمام سیکورٹی چیک پوسٹیں اور سیف سٹی کیمروں سے اتنی بھاری منشیات کی کھیپ کیسے گزر رہی ہے جو ریڈ زون اور ملحقہ علاقے میں موجود انتہائی سیکورٹی رسک ہے کیا آئی جی اسلام آباد کی منشیات کے خلاف جاری مہم نشہ اب نہیں یہی ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں