مزارات ہماری ثقافت،عقیدت اور ہم آہنگی کی علامت ہیں, ڈاکٹر احسان بھٹہ
صوفیانہ ورثے کے تحفظ اور صوبے بھر کے مزارات پر زائرین کے لیے سہولیات کی فراہمی حکومت کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے
راولپنڈی:( جاگیر نیوز ) صوفیائے کرام کے مزارات ہماری عقیدت، ثقافت اور ہم آہنگی کی علامت ہیں۔ صوفیانہ ورثے کے تحفظ اور صوبے بھر کے مزارات پر زائرین کے لیے سہولیات کی فراہمی حکومت کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے۔ان خیالات کا اظہارسیکرٹری / چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے در بار حضرت پیر وارث شاہؒ کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور زائرین کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ نے مزارات کی موجودہ حالت اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور کاموں کی جلد تکمیل کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔دورے کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ مزارات میں مسجد تعمیر کی جائے گی جبکہ کلچرل سنٹر اور لائبریری کی تزئین و آرائش کی جائے گی تاکہ حضرت پیر وارث شاہؒ کی علمی اور روحانی میراث محفوظ رہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ مکمل سٹرکچرل ترقیاتی اور تعمیراتی کام جلد مکمل کرایا جائے۔اس موقع پر ڈائریکٹر پراجیکٹ رفیق نور وٹو، زونل ایڈمنسٹریٹر شاہد حمید وڑائچ، مینجر دربار غلام عباس، اسسٹنٹ کمشنر شیخوپورہ، ضلع کے خطیب اور محکمہ آثار قدیمہ اور ٹی ڈی سی پی کے نمائندے بھی موجود تھے۔بعد ازاں ڈاکٹر احسان بھٹہ نے در بار حضرت شیر محمد شرقپوریؒ کا بھی دورہ کیا، جہاں جاری ترقیاتی سکیم کا جائزہ لیا اور ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہیں بتایا گیا کہ مزارات تک جانے والے راستے کو کشادہ کیا جا رہا ہے جبکہ ٹف ٹائل، پتھر کی فرش کاری، وضو خانہ اور غسل خانہ کے کام جاری ہیں۔محکمے کے اہلکاروں نے بتایا کہ مزارات کی مجموعی تزئین و آرائش جون 2026ء تک مکمل کر دی جائے گی۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ مزارات نہ صرف روحانی رہنمائی کے مراکز ہیں بلکہ امن، برداشت اور ثقافتی شناخت کی علامت بھی ہیں، اور ان کی ترقی زائرین کی سہولت اور مذہبی و ثقافتی سیاحت کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔




