کسی بھی حتمی معاہدے پر فوری دستخط کا امکان موجود نہیں اور مذاکراتی عمل ابھی کئی اہم مراحل سے گزر رہا ہے،ایران
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ایران سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، تاہم بعض بیرونی عناصر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،تہران
تہران:(جاگیرڈیسک)ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے پر فوری دستخط کا امکان موجود نہیں اور مذاکراتی عمل ابھی کئی اہم مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل مسلسل ایسے اقدامات اور بیانات دے رہا ہے جن کا مقصد جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا اور مذاکرات کو ناکام بنانا ہے۔
تہران کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ایران سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، تاہم بعض بیرونی عناصر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ مذاکرات کے بیشتر موضوعات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ فوری طور پر طے پا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں اب تک کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی متعدد حساس معاملات پر مکمل اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اور علاقائی سلامتی جیسے امور پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایران کسی دباؤ یا جلد بازی میں ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جو قومی مفادات کے خلاف ہو۔انہوں نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور عالمی طاقتوں کو ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنانے پر اکسانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل شروع ہی سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی مخالفت کرتا آیا ہے اور ہر ممکن طریقے سے اس عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ تہران نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کیلئے ہے اور ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر مغربی ممالک اعتماد سازی کے اقدامات کریں اور عائد پابندیاں ختم کرنے کے حوالے سے واضح ضمانتیں فراہم کریں تو مذاکرات میں مثبت پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے۔دوسری جانب اسرائیل مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام خطے اور دنیا کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسی تناظر میں اسرائیل عالمی برادری، خصوصاً امریکا اور یورپی ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران کے خلاف سخت پابندیاں برقرار رکھی جائیں۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل ایک نازک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں کسی بھی قسم کی سیاسی یا عسکری کشیدگی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے لچک اور تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو مذاکرات تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ادھر عالمی برادری کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے اور معاشی استحکام آنے کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، اسرائیل اور مغربی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہونے والی سفارتی ملاقاتیں اور عالمی ردعمل اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا مذاکرات کسی حتمی معاہدے کی جانب بڑھتے ہیں یا خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے۔




