چین کی خدمات کی وسعت میں تیزی دنیا میں مزید یقینی صورتحال کا محرک
بیجنگ(شِنہوا)چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ چین اپنے خدمات کے شعبے کو وسعت دینے کی رفتار تیز کر رہا ہے، جس کے لئے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں، جیسے کہ تجرباتی منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کرنا، متعلقہ دائرہ کار کو وسعت دینا، دباؤ کا تجزیہ بہتر بنانا اور کامیاب تجربات کو دہرانا شامل ہے۔چین کے نائب وزیر تجارت اور بین الاقوامی تجارت کے نائب نمائندے لِنگ جی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی سطح پر یکطرفہ رویوں اور تحفظ پسند رجحانات کے بڑھنے کے باوجود چین کی رضاکارانہ اور منظم انداز میں خدمات کے شعبے کو وسعت دینے کی کوشش دنیا میں مزید یقین اور استحکام پیدا کرنے کی ٹھوس کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔لِنگ نے کہا کہ چین کی ریاستی کونسل نے حال ہی میں منصوبے کی منظوری دی ہے جس کا مقصد خدمات کے شعبے کی وسعت کو تیز کرنا ہے۔ اس میں کلیدی خدمات کے شعبوں، صنعتی اختراع اور ترقی کے اہم شعبوں کے فروغ سمیت 155 آزمائشی امور شامل ہیں۔ان آزمائشی امور میں شامل اقدامات میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ایپ سٹورز اور انٹرنیٹ رسائی جیسی خدمات میں غیر ملکی ملکیت کی حد کو ختم کرنا شامل ہے۔2015 سے اب تک چین نے بیجنگ اور ہائی نان سمیت 11 صوبوں اور شہروں میں آزمائشی پروگراموں کی منظوری دیتے ہوئے قوانین، ضوابط، انتظامات اور معیارات کے حوالے سے ادارہ جاتی وسعت میں مسلسل توسیع کی ہے۔ اس سے مارکیٹ و قانون پر مبنی اور بین الاقوامی نوعیت کا حامل عالمی معیار کا کاروباری ماحول پیدا ہو رہا ہے جو چین میں غیر ملکی سرمایہ کار اداروں کو متنوع مواقع اور مستحکم پالیسی ماحول فراہم کر رہا ہے۔نئے منصوبے کے مطابق ننگبو اور شیامن سمیت مزید 9 شہروں کو بھی جامع آزمائشی پروگراموں کے نفاذ کی اجازت دی جائے گی۔
چین نے ملازمت مارکیٹ میں استحکام اور مہارتیں بڑھانےکے اقدامات میں توسیع کردی
بیجنگ (شِنہوا) چین اداروں میں ملازمتیں برقرار رکھنے اور کارکنوں کو اپنی مہارت بڑھانے میں معاونت کے لئے بے روزگاری بیمہ کی اہم پالیسی میں 2025 تک توسیع کرے گا۔وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی تحفظ، وزارت خزانہ اور ریاستی ٹیکس انتظامیہ کے منگل کو مشترکہ طور پر جاری کردہ ایک مراسلے میں کاروباری اداروں کو مستحکم روزگار برقرار رکھنے میں مدد سے متعلق اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔پالیسی کے مطابق 2025 کے اختتام تک وہ ادارے جو ملازمتوں میں کٹوتی نہیں کریں گے یا کم تعداد میں کمی کریں گے تو انہیں گزشتہ برس کی طرح بے روزگاری بیمہ پریمیم کی ایک خاص فیصد واپس ملتی رہے گی۔کارکنوں کو اپنی مہارت بہتر بنانے میں مدد کرنے کے لئے یہ توسیع شدہ پالیسی اہلیت کی شرائط میں نرمی اور مہارت بڑھانے سے متعلق سبسڈی کا دائرہ کار وسیع کرتی ہے۔یہ اقدامات بنیادی زندگی کے اخراجات کی مسلسل فراہمی کو بھی یقینی بناتے ہیں جس میں بے روزگاری کے فوائد، بنیادی طبی بیمہ کا دائرہ کار اور بزرگ بے روزگار افراد کے لئے معاونت شامل ہے۔
چین میں ہر سال بیلجیئم کے برابر رقبے پر پھیلے گھاس کے میدانوں کی بحالی
بیجنگ (شِنہوا) چین حالیہ برسوں میں گھاس کے میدانوں کی بحالی کو مسلسل فروغ دے رہا ہے اور سالانہ4کروڑ 60لاکھ مو (تقریباً 30 ہزار667 مربع کلومیٹر) سے زیادہ رقبے پر گھاس کے میدانوں کو بحال کر رہا ہےجو بیلجیئم کے رقبے کے مساوی ہے۔قومی جنگلات و سبزہ زار انتظامیہ کے ایک اہلکار لی یونگ جون نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مرکزی حکومت نے 14ویں 5 سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران گھاس کے میدانوں کے تحفظ اور بحالی میں معاونت کے لئے مجموعی طور پر 110 ارب یوآن (تقریباً 15.26 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی ہے۔ملک بھر کے جنگلات اور سبزہ زارحکام نے گھاس کے میدانوں کی بحالی اور غیر مجاز قبضے جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کے تدارک کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔مقامی حکام نے 2018 سے گھاس کے میدانوں کی تباہی کے تقریباً 50 ہزار مقدمات کی تحقیقات کیں اور 1 ہزار سے زیادہ مشتبہ فوجداری مقدمات عدالتی حکام کو منتقل کئے۔لی نے کہا کہ ملک کی مسلسل کوششوں کی بدولت گھاس کے میدانوں کے ماحولیاتی معیار میں رواں صدی کے اوائل میں عام تنزلی سے موجودہ مجموعی بہتری کی طرف ایک تاریخی تبدیلی آئی ہے۔
چین اور متحدہ عرب امارات کا سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
بیجنگ (شِنہوا) چین کے نائب وزیراعظم ڈنگ شوئے شیانگ اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے چین ۔ متحدہ عرب امارات سرمایہ کاری تعاون سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی ورچوئل صدارت کی۔ڈنگ نے دوطرفہ تعاون میں مزید نتائج حاصل کرنے میں کمیٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کی مشترکہ سوچ کو پورا کرتے ہوئے دونوں اطراف کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں پیشرفت کے لئے سرمایہ کاری تعاون کی کارکردگی اور سطح کو بڑھایا جاسکے۔ڈنگ نے تجویز دی کہ دونوں فریقین کمیٹی کے رہنما کردار سے بھرپور فائدہ اٹھا ئیں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت بڑے منصوبے تیار کریں اور کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے شعبوں کو وسعت دے کر تعاون کے اپنے طریقے جدید بناسکیں۔اس موقع پر شیخ منصور کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات دوطرفہ تعلقات کو سراہتا ہے اور چین کی معیشت پر بھروسہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات چین کے ساتھ اپنے سرمایہ کاری تعاون میں اضافہ کرے گا تاکہ ان کے اضافی فوائد سے مستفید ہوکر مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جاسکے۔
چین، صوبہ ہونان میں آتش بازی صنعت کی ترقی پر تبا دلہ خیال
چھانگ شا (شِنہوا) چین کےوسطی صوبے ہونان میں 60 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اداروں اور صنعتی ماہرین کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ چین کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے تقسیم کار اور خریدار آتش بازی کی صنعت کی اعلیٰ معیار کی ترقی پر تبادلہ خیال کے لئے جمع ہوئے ہیں۔وہ لی لنگ شہر میں آتش بازی پر ہونے والے 19ویں بین الاقوامی سمپوزیم (آئی ایس ایف)اور پہلی ہونان (لی لنگ) آتش بازی صنعتی نمائش میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہ غیر ملکی نمائندگان اور صنعتی ماہرین امریکہ، فرانس اور جرمنی سمیت مختلف ممالک سے آئے ہیں۔رواں سال کی تقریب جمعہ تک جاری رہے گی جس میں آتش بازی کی صنعت میں حفاظت، فنکاری، ثقافتی وراثت اور انتظام پر بات چیت کی جائے گی۔تقریب کے ایجنڈے میں 2 نمائشیں، 4 کانفرنسز، 7 بین الاقوامی فنکارانہ آتش بازی کے مظاہرے اور 9سیمینار شامل ہیں جو تعاون اور تبادلے کے لئے کثیر الجہتی مواقع فراہم کریں گے۔کینیڈا کی معروف آتش بازی کمپنی جی ایف اے پائروٹیکنک کے سی ای او گوئی لایوم چارٹیئر ضرورت کے مطابق آتش بازی کی نمائش میں مہارت رکھتے ہیں۔انہوں نے نمائش میں موجود چینی آتش بازی کی مصنوعات کی وسیع اقسام دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔




