اسرائیلی تازہ حملہ، 2 جنرلز، 3 جوہری سائنسدانوں سمیت 65 شہری شہید
ایران کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں میزائلوں کی بارش ، اسرائیلی ڈیفنس فورس نے جنگ میں ایران کو پہلی، غزہ کو دوسری ترجیح قرار دیدیا
تہران: ( ویب ڈیسک) ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر پانچواں میزائل حملہ بھی کر دیا، گزشتہ رات سے اب تک تقریباً 300 بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغ چکا ہے، اسرائیل میں اب تک 7 ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں، متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، جس کے بعد اسرائیل نے فوج کو کارروائی کے لیے فری ہینڈ دے دیا۔
فری ہینڈ ملنے کے بعد تازہ اسرائیلی حملے میں ایران کے مزید 2 جنرلز، 3 جوہری سائنسدانوں اور 20 بچوں سمیت 65 ایرانی شہری شہید ہوگئے جب کہ اسرائیل نے مزید کارروائی کا بھی عندیہ دیا ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے مزید شدت اختیار کرلی ہے، ایران نے ہفتہ کی صبح اسرائیل پر پانچواں بڑا میزائل حملہ کیا، تازہ حملے میں درجنوں میزائل داغے گئے، ایران کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں میزائلوں کی بارش کی گئی۔ایرانی حملوں کے نتیجے میں 4 اسرائیلی ہلاک اور 63 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جب کہ صہیونی ریاست کے 3 جدید ترین ایف 35 اسٹیلتھ جنگی طیارے بھی مار گرائے اور 2 پائلٹس گرفتار کر لیے گئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق دھماکوں کی آوازیں تل ابیب، یروشلم اور گش دان میں سنی گئیں جس سے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ تل ابیب میں اسرائیلی جوہری تحقیقی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔پاسداران انقلاب کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 3 میں اسرائیل میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اسرائیل پر 300 سے زائد میزائل داغے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس نے جنگ میں ایران کو پہلی، غزہ کو دوسری ترجیح قرار دیدیا.اسرائیلی ڈیفنس فورس نے ایران کو پرائمری اور غزہ کو سکینڈری وار فرنٹ قرار دے دیا، اسرائیلی فوج کے مطابق افواج کی تمام تر توجہ اب غزہ سے ہٹ کر ایران کی جانب مرکوز ہوگئی ہے، ایران کے دو فوجی مقامات کو نشانہ بنا کر بہت نقصان پہنچایا ہے24 گھنٹے میں ایئر فورس جیٹس نے ایران میں 150 اہداف کو نشانہ بنایا، فضائیہ کی کوششوں سے تہران کیلئے ایک محفوظ راستہ پیدا ہوگیا ہے، اسرائیلی فوج کا کہن اہے کہ اب ایران کی فضائی حدود میں آزادانہ طور پر رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ حملوں میں تقریباً دو ہزار میزائل اسرائیل کی جانب داغے جائیں گے اور خبردار کیا کہ ہمارے میزائل حملے سابقہ حملوں کے مقابلے میں بیس گنا زیادہ شدید ہوں گے، ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی اعلان کیا ہے کہ جب تک ضرورت محسوس ہوگی، اسرائیل کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اب اسرائیل کو بھاگنے نہیں دیں گے، آغاز اسرائیل نے کیا، اختتام ہم لکھیں گے۔ ایران کے اسرائیل کے خلاف تازہ حملے کے بعد مقبوضہ گولان، گلیلی، حیفہ اور تبریسی میں سائرن بجنا شروع ہوگئے، ایرانی فوج نے شمال مغربی سلماز بارڈر پر اسرائیلی ڈرون مار گرائے، ایرانی فوج نے کئی اسرائیلی ڈرونز کو پیچھے دھکیل دیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب کے علاقے شیفیلہ میں ایرانی میزائل حملے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد ڈرونز مار گرائے، ایران سے ڈرون حملے کے بعد اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجے۔ادھر ایرانی میڈیا نے مزید دو فوجی کمانڈرز کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل کے حملوں میں ملٹری آپریشنز کے ڈپٹی چیف جنرل مہدی ربانی شہید ہوئے،اس کے علاوہ جنرل اسٹاف کے ہیڈ آف انٹیلیجنس جنرل غلام رضا محرابی بھی شہید ہوگئے۔واضح رہے کہ ایران نے اسرائیل پر پانچواں میزائل حملہ شروع کر دیا ہے جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم میں دھماکے ہوئے ہیں، امریکی سفارتخانے کے ارکان پناہ گاہ میں چلے گئے ہیں، تل ابیب سائرن سے گونج اٹھا ہے، شہری بنکروں میں چلے گئے ہیں۔اس سے پہلے ایران کی جانب سے اسرائیل پر چوتھا میزائل حملہ کیا گیا، یروشلم، تل ابیب اور شیرون کے علاقوں میں دھماکے ہوئے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق گشن دان میں2 ایرانی میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں، ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حملے میں 63 افراد زخمی جبکہ 7 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔چوتھے حملے میں کم از ایک میزائل اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے عین وسط میں گرا جس میں اسرائیلی جوہری تحقیق مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ایرانی حملے میں اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کریا کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی صحافی ایلون مزراہی نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ایرانی حملے میں تل ابیب میں واقع اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، کریا ہیڈکوارٹر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو فوجی بریفنگ لیتے رہے ہیں۔
تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے جن میں عمارتوں سمیت 7 مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے 9 عمارتیں مکمل تباہ ہوگئیں اور سیکڑوں اپارٹمنٹس کو بھی نقصان پہنچا اور بجلی کا نظام مفلوج ہو گیا۔تل ابیب میں حملوں کے بعد متعدد عمارتوں کو آگ لگ لگی، دھویں کے بادل چھا گئے، مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، اسرائیل بھر میں سائرن بج اٹھے، کئی علاقوں میں بجلی بند ہوگئی، میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی شہری بنکرز میں چھپ گئے۔ایرانی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیل کی ڈیفنس منسٹری کے ہیڈ آفس کے باہر بھی دھماکا ہوا، اسرائیل میں150اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائلی ڈیفنس فورس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے۔واضح رہے کہ ایران کی جانب سے 2 اسرائیلی طیارے مار گرانے اور خاتون پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، جوابی حملے کے بعد ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے، ملک بھر میں جشن کا سماں رہا، یمن، غزہ اور لیبیا میں بھی شہریوں نے جشن منایا۔خبرایجنسی کے مطابق اسرائیل کے بھی ایران پر حملے نہ تھمے، ایرانی دارالحکومت تہران ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا، تہران میں 4 خوفناک دھماکے رپورٹ ہوئے، اسرائیل کی جانب سے تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے کہ پہلے ایرانی حملے میں 100، دوسرے میں 50 اور تیسرے حملے میں بھی تقریباً 50 میزائل شامل تھے، تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے خطے میں وسیع جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔حماس رہنما عزت الرشق نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر کامیاب حملے کیے، اسرائیلی دفاعی نظام ناکام ہو گیا، اسرائیل کو اپنے بھڑکائے گئے شعلوں کا سامنا ہے، ایران کا پوری طاقت سے جواب جارحیت کے خلاف سخت ردعمل کی علامت ہے۔اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین پر ہونے والی کانفرنس منسوخ کر دی گئی۔فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے فلسطین کے دو ریاستی حل کیلئے اقوام متحدہ میں کانفرنس منعقد ہونی تھی، کانفرنس اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں 17 سے 20 جون کو طے تھی۔اسرائیل کی ایران کی جانب سے 2 لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کی تردید
اسرائیلی اہلکار نے ایران کی عسکری اور جوہری تنصیبات پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے 2 اسرائیلی لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کی خبروں کو جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا۔اسرائیلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ایرانی فضاؤں میں ہمارے 2 جنگی طیارے مار گرائے جانے کی جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ جعلی ہیں۔واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی افواج نے اسرائیل کے2 طیارے مار گرائے ہیں۔امریکی سینیٹر نے ایران پر اسرائیلی حملے کو غیر قانونی قرار دیدیا،امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کاکہنا ہے کہ امریکا کو اسرائیل کی ایک اور جنگ میں گھسیٹا نہیں جاسکتا، ایران کے نیو کلیئر پروگرام پرمذاکرات اتوار کو طے تھے، نیتن یاہو نے حملہ کر دیا۔انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے جنگ بندی کے سب سے بڑے مذاکرات کار کو مار دیا اور امریکا کی سفارتکاری کو نیچا دکھایا ہے۔امریکی سینیٹر نے کہا کہ نیتن یاہو نے ہزاروں شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج اسرائیل میں ان اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں سے ایران پر جارحیت کی جارہی ہے۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق سوم میں اسرائیلی کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جن میں اسرائیلی فوج کے اڈے اور ہتھیار بنانے والی اسرائیلی تنصیبات بھی شامل ہیں۔پاسداران نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی بیانات کے برعکس ایرانی میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ بے گناہوں کا خون بہائے جانے کا بدلہ لیا جارہا ہے۔پاسداران انقلاب نے ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ ایران کی سکیورٹی سرخ لکیر ہے جس پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائےگا، اسرائیل پر خیبر میزائل جلد ہی داغے جائیں گے اور دنیا حیران رہ جائے گی۔




