چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس

اجلاس میں سب سے پہلے سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا،میڈیا بریفنگ

کراچی:(جاگیرنیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس آج کراچی میں منعقد ہوا، جس میں تمام اراکین اور خصوصی مدعوئین کی شرکت کی۔
شیری رحمان نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین سمیت غریب عوام پر پیپلز پارٹی آنچ آنے نہیں دے گی، محنت کش طبقات ہمارے لیے سرخ لکیر ہیں۔مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پارٹی کی مرکزی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان، ندیم افضل چن اور سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اجلاس میں سب سے پہلے سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر جب ان کے قافلے کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا تو جس طرح کارکنان نے بی بی شہید کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک میں دہشتگردی کے حوالے سے جتنے بھی چیلنجز ہیں، ان کو بہت اچھی طرح سمجھتی ہے، اس کا ڈٹ کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان پر دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں، تو پارٹی قیادت اور مرکزی مجلس عاملہ نے یک زبان ہو کر دہشتگردی کی مذمت کی ہے، اور ہم اس جنگ میں مسلحہ افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صدر مملکت آصف علی زرداری یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے مسلح افواج کے شہداء کے لواحقین کے پاس جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پیپلز پارٹی نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں، اور دہشتگردی کے خلاف پیپلز پارٹی کی پوزیشن ہمیشہ کی طرح آج بھی واضح اور دوٹوک ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جو مسائل کھڑے ہوئَےہیں، ان پر ہم نے تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ ہمارے کارکنان نے بھی کہا ہے کہ ان مسائل کو قومی دھارے میں لاکر اسی طرح حل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا کارکن وہاں بالکل تیار ہے، اور اہل بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن کے حوالے سے، یا جو سیاسی مسائل ہیں، ان کے حل کے لیے صف اول میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس نے خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور پنجاب میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت سے متاثرین کی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے اپنی طور بھی اقدامات کئے ہیں، جبکہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود بھی سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کے ان اقدام کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تجاویز کو تسلیم کرتے ہوئے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بل معاف کیے اور ملک میں زرعی و موسمیاتی ایمرجنسی کا نفاذ بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ وفاقی حکومت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی یہ تجویز بھی مان لے گی کہ گندم کی خصوصی پروکیورمنٹ پرائس ہونی چاہیے۔ شیری رحمان نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کی مالی معاونت کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کرنے کی بات کرتے رہے ہیں، جو کہ ہنگامی حالات میں متاثرین کی امداد کا ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ صاف شفاف نظام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ بجائے اس پر ہم ایک دوسرے کے خلاف سیاسی گولہ باری کریں، حکومت اس معاملے کا جائزہ لے، اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے پاس ہونے والے اجلاس اور بعدازاں وزیراعظم میاں شہباز شریف سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کے دوران پیپلز پارٹی نے اپنے تمام ایشوز کو حکمران جماعت کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت کی جانب سے دلائی گئی یقین دہانیوں اور کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عاملہ نے وزیراعظم کو ایک مہینے کی مہلت دی ہے، ایک مہینے کے بعد عملدرآمد کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا ہے، اور اِس حکومت سازی اور قانون سازی میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ مرکزی مجلس عاملہ نے بنیان مرصوص و معرکہ حق میں بھارت کو شکست سے ہمکنار کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ اجلاس نے پاک بھارت جنگ کے دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سفارتی محاذ پر اقدام اور کامیابیوں کو سراہا۔ پیپلز پارٹی کے اطلاعات سیکریٹری ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس میں پنجاب میں لوکل باڈیز کے انتخابات بھی شامل تھے، لیکن اب جو نظام پنجاب میں لایا جا رہا ہے اس پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس نے ملک کے معاشی حالات کا بھی جائزہ لیا، ملک میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے، کبھی عہدوں کے لیے سیاست نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے پاس ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار اور قومی اسمبلی کے اسپیکر نوابشاہ چل کر آئے اور عملدرآمد کیلئے یین وقت مانگا۔ یہ ہماری روایات ہیں کہ کوئی چل کر آتا ہے تو ا س کو مان دیا جاتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں