قومی سلامتی سے بڑھ کر کوئی معاملہ نہیں، ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، نیر حسین بخاری

ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی کی زبان بولنے والوں سے مذاکرات ممکن نہیں،دہشت گردی کی زبان ترک کر دی جائے تو مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں

انتشار، خلفشار اور تقسیم کا نقصان پاکستان اور عوام کو ہو رہا ہے، خیبرپختونخوا کے عوام نے تخریبی سیاست کو مسترد کر دیا ہے، لانگ مارچ میں عوامی مسائل غائب ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری پر خاموشی کیوں سید نیر حسین

ویب ڈیسک

اسلام آباد:(جاگیر نیوز) سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ قومی سلامتی سے بڑھ کر کوئی معاملہ نہیں، ملکی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی کی زبان بولنے والوں سے مذاکرات ممکن نہیں، تاہم دہشت گردی کی زبان ترک کر دی جائے تو مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اسپانسرڈ مذاکراتی ٹیم کی اسپیکر سے ملاقات ہوئی، لیکن بے اختیار مذاکراتی ٹیم کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خود مسترد کر دیا۔ اس صورتحال سے مذاکراتی عمل کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔نیر حسین بخاری نے کہا کہ انتشار، خلفشار اور تقسیم کا نقصان پاکستان اور عوام کو ہو رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے تخریبی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ لانگ مارچ میں عوامی مسائل غائب ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟انہوں نے کہا کہ 40 لاکھ افراد لانے کے دعوے کے باوجود 40 ہزار افراد بھی جمع نہ ہو سکے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی عروج پر ہے، مگر صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سیاسی رہنما کی رہائی اور علاج نمایاں ہیں۔سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء حکومتی امور سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ دہشت گردی سے شہری جانیں گنوا رہے ہیں، اس وقت ذاتی مفادات کے بجائے امن اور شہریوں کے تحفظ کی فکر ہونی چاہیے۔نیر حسین بخاری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن خیبرپختونخوا میں مینڈیٹ چھینے جانے کی بات کرتے رہے ہیں، جبکہ صوبے میں اپوزیشن لیڈر جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرآعظم شہباز شریف سے عزت و احترام کے تعلقات ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں