ناقص حکومتی پالیسیاں:ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ
قیمت بڑھانے سے پہلے فلار ملز نے کئی روز سپلائی روکے رکھی جس سے دکانوں پر اسٹاک کی کمی ہوئی، درآمدی گندم نومبر تک پہنچنے کی توقع، اوپن مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے
سندھ حکومت نے 15 اکتوبر سے فلار ملز کو 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلو کےحساب سے رعایتی گندم جاری کرے گی
نیوز ڈیسک
اسلام آباد(جاگیر نیوز) وفاقی و صوبائی حکومتوں ناقص پالیسیوں اور منصوبہ بندی سے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے ملک بھر میں گندم کا خود ساختہ بحرانی کیفیت پیدا کر کے مہنگی کردی۔
گندم مہنگی ہونے سے آٹے کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ملک کا غریب طبقہ منافع خوروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلار ملز نے آٹے کے فی کلو نرخ 20 روپے تک بڑھا دیئے ہیں جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 14 ہزار 500 روپے فی 100 کلو تک پہنچ گئی ہے۔ہول سیل میں ریگولر آٹا 155، میدہ 167 اور فائن آٹا 180 روپے فی کلو ہوگیا ہے، ریٹیل میں ریگولر آٹا 170، فائن 200 اور چکی آٹا 210 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق قیمت بڑھانے سے پہلے فلار ملز نے کئی روز سپلائی روکے رکھی جس سے دکانوں پر اسٹاک کی کمی ہوئی، درآمدی گندم نومبر تک پہنچنے کی توقع، اوپن مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
علاوہ ازیں سندھ حکومت نے 15 اکتوبر سے فلار ملز کو رعایتی گندم جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے،
پشاور میں آٹا مزید مہنگا ، 20 کلو کا تھیلا 1900 روپے کا ہو گیا
حکومت سندھ 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلو کےحساب سے رعایتی گندم جاری کرے گی، سندھ کے سرکاری ذخائر میں 3 لاکھ 46 ہزار 414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔
پاسکو، درآمدی گندم آنے کے بعد ذخیرہ 8 لاکھ 36 ہزار 414 میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے۔




