پاک سعودیہ ترکیہ کا اتحاد :دربارِ سلطان باہو پر ہزاروں پاکستانیوں نے مکہ معاہدے کو انسانی اتحاد کی شکل دیدی
مکہ معاہدہ مسلم امہ کی اجتماعی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کی سمت میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت ہے، صاحبزادہ سلطان احمد علی
دربارِ سلطان باہو پر مکہ معاہدے کے انسانی ماڈل کا مقصد مسلم اتحاد کو اجاگر کرنا تھا،ہیومن ماڈل کی تشکیل مسلم انسٹیٹیوٹ نے کی
مکہ معاہدے کے انسانی ماڈل کو تینوں ممالک کے قومی پرچموں سے سجایا گیا،فضا تینوں ملکوں کے قومی ترانوں اور “اسلام از پیس” کے نعروں سے گونجتی رہی

رپورٹ: عبدالمالک
جھنگ :(جاگیر نیوز)مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام دربار حضرت سلطان باہوؒ پر ایک عظیم الشان اور تاریخ ساز تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں اور زائرین نے شرکت کر کے پاک، سعودیہ اور ترکیہ کے مابین قائم ہونے والے تاریخی “مکہ معاہدے” کو ایک خوبصورت انسانی اتحاد (Human Model) کی شکل دے دی۔ اس موقع پر پورا ماحول تینوں برادر اسلامی ممالک کے قومی پرچموں اور یکجہتی کے نعروں سے معطر رہا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ مکہ معاہدہ مسلم امہ کی اجتماعی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کی سمت میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر (آرٹیکل 51) تمام ممالک کو اجتماعی حقِ دفاع کی کامل اجازت اور تسلیم کرتا ہے، جس کے تحت یہ اتحاد خطے میں امن و استحکام کی ضمانت بنے گا۔چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ نے مزید بتایا کہ اس سے قبل بھی دربار سلطان باہوؒ کے مقام پر نیوزی لینڈ کی مسجد النور کا انسانی ماڈل تشکیل دیا جا چکا ہے تاکہ عالمگیر اسلامی اخوت کا پیغام عام کیا جا سکے۔ تقریب کے اختتام پر فضا تینوں ممالک کے قومی ترانوں اور “اسلام از پیس” (Islam is Peace) کے پرجوش نعروں سے گونجتی رہی، جبکہ شرکاء نے امت مسلمہ کے اتحاد اور سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔




