سٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ گیس کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے، سٹیٹ بینک-
کراچی: سٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا جس میں شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
گورنر سٹیٹ بینک کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مسلسل چوتھی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔مرکزی بینک کے مطابق شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ گیس کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت زرمبادلہ زخائر بہتر ہونگے۔مالی سال 2025ءمیں مہنگائی 5سے 7 فی صد کا ہدف موزوں ہے،زرعی پیداوار میں بہتری آرہی ہے، معیشت کی شرح 2اعشاریہ 1 فی صد رہنے کی توقع ہے۔واضح رہے کہ سٹیٹ بینک نے 26 جون 2023ء کو شرح سود 100 بیس پوائنٹس یعنی 1 فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد بنیادی شرح سود 22 فیصد ہو گئی تھی۔




