روس کا پٹرول کی برآمدات پر پھرپابندی عائد کرنے کا اعلان

پٹرول کی برآمد پر پابندی کی وجہ مقامی فیول مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنا بتایا گیا ہے،روسی حکومت-فوٹو: انٹرنیٹ

اس عرصے کے دوران ملکی سطح پر تیل کی کھپت میں اضافہ ہوتا ہے، چنانچہ اس طلب کو پورا کرنے اور آئل ریفائنریز کی مرمت کے پیش نظر پٹرول کی برآمد پر پابندی لگائی جارہی ہے،روسی حکومت کا اعلان
اس پابندی سے یوریشین اکنامک یونین کے اراکین یعنی بیلاروس، قازقستان، کرغیزستان اور آرمینیا کے ساتھ بین الحکومتی معاہدے متاثر نہیں ہوں گے اور ان ممالک کو معاہدوں کے مطابق پٹرول کی فراہمی جاری رہے گی

ماسکو: روس نے پٹرول کی برآمدات پر پھر چار ماہ کی پابندی عائد کردی۔
عالمی میڈیا کے مطابق روسی حکومت نے پٹرول کی برآمدات پر دوبارہ چار ماہ کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پابندی کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا اور یہ 31 دسمبر تک نافذ رہے گی۔پٹرول کی برآمد پر پابندی کی وجہ مقامی فیول مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔روسی حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلان میں کہا گیا ہے اس عرصے کے دوران ملکی سطح پر تیل کی کھپت میں اضافہ ہوتا ہے، چنانچہ اس طلب کو پورا کرنے اور آئل ریفائنریز کی مرمت کے پیش نظر پٹرول کی برآمد پر پابندی لگائی جارہی ہے۔خیال رہے کہ قبل ازیں روس نے رواں سال مارچ میں پٹرول کی برآمد پر 6 ماہ کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم پھر فیول کی رسد طلب سے بڑھ جانے کو سبب قرار دیتے ہوئے مئی تا جولائی کے لیے پابندی اٹھالی گئی تھی، جو اب یکم ستمبر سے دوبارہ لگائی جارہی ہے۔روسی حکومت کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے یوریشین اکنامک یونین کے اراکین یعنی بیلاروس، قازقستان، کرغیزستان اور آرمینیا کے ساتھ بین الحکومتی معاہدے متاثر نہیں ہوں گے اور ان ممالک کو معاہدوں کے مطابق پٹرول کی فراہمی جاری رہے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں