سپریم کورٹ، پارلیمان کا شکریہ، مولانا فضل الرحمان کاجمعہ کو یوم تشکر منانے کا اعلان
چیف جسٹس نے آج جس مثبت رویے کا اظہار کیا ہمیں اس پر انہیں داد اور خراج تحسین پیش کرنی چاہیے-
دنیا کی کوئی طاقت عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہ کوئی سازش کرسکے گی، نہ ان کی سازش چل سکے گی، یہ امت، پوری قوم اور متفقہ آواز ہے، ہم ان کے انسانی حقوق تسلیم کرتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے آئین اور آئین کے فیصلے کو تسلیم کریں
7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد اور ترمیم کے ذریعے قادیانیوں اور لاہوریوں کو اقلیت قرار دیا تھا اور پوری قوم 7 ستمبر 2024 کو مینار پاکستان لاہور پر 50 سالہ گولڈن جوبلی منا رہی ہے
اس دن کو یوم الفتح پر منایا جائے گا اور اس کے اس فیصلے نے گولڈن جوبلی کی اہمیت کو اور دوبالا کردیا ہے اور اب پاکستان کے عوام الگ جذبے اور تازہ ترین فاتحانہ تصور کے ساتھ اس میں شریک ہوں گے
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کی جانب سے مبارک ثانی کیس پر نظر ثانی کی درخواست منظور کیے جانے پر عدالت عظمیٰ اور پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کل جمعے کو ملک بھر میں یوم تشکر منانے کا اعلان کردیا۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کل پورے ملک میں یوم جمعہ کو بطور یوم تشکر منایا جائے گا، 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد اور ترمیم کے ذریعے قادیانیوں اور لاہوریوں کو اقلیت قرار دیا تھا اور پوری قوم 7 ستمبر 2024ء کو مینار پاکستان لاہور پر 50 سالہ گولڈن جوبلی منا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دن کو یوم الفتح پر منایا جائے گا اور اس کے اس فیصلے نے گولڈن جوبلی کی اہمیت کو اور دوبالا کردیا ہے اور اب پاکستان کے عوام الگ جذبے اور تازہ ترین فاتحانہ تصور کے ساتھ اس میں شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہ کوئی سازش کرسکے گی، نہ ان کی سازش چل سکے گی، یہ امت، پوری قوم اور متفقہ آواز ہے، ہم ان کے انسانی حقوق تسلیم کرتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے آئین اور آئین کے فیصلے کو تسلیم کریں۔
مولانافضل الرحمان نے کہا کہ اگر کوئی اور شہری دنیا کے کسی حصے میں بھی اپنے ملک کے آئین سے بغاوت کرتا ہے اور آئین کو تسلیم نہیں کرتا ہے تو اس کے شہری اور انسانی حقوق ختم ہوجاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ایک بار پھر سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بات ہوئی تو حکومت اور حزب اختلاف بھی ایک پیج پر تھی اور کوئی اختلاف رائے نہیں تھا، دینی جماعتیں ہمیشہ اس پر یک جہتی کا اظہار کرتی چلی آئی ہیں اور آج بھی اس کا مظاہرہ کیا۔مولانا فضل الرحمان نے ایک سوال پر کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج جس مثبت رویے کا اظہار کیا ہمیں اس پر انہیں داد اور خراج تحسین پیش کرنی چاہیے۔




