میرے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ کرکٹ کو فورا ٹھیک کردوں، محسن نقوی
قومی کرکٹ کے معاملات ٹھیک ہونے کے بعد چیئرمین پی سی بی کا عہدہ چھوڑ دوں گا، چیئرمین پی سی بی –
وقار یونس نے ہمیں تین چار ہفتے اسسٹ کیا، چیمپئنز کپ کے لیے جو پانچ مینٹورز رکھے ہیں وہ وقار یونس کی مشاورت سے ہوئے ہیں،ان پانچ کرکٹرز کے آنے سے ہمیں فائدہ ہو گا
لاہور: چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کسی کی خواہش پر نہیں بلکہ کرکٹ کو ٹھیک کر کے ہی جاؤں گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جب سے عہدہ سنبھالا ہے کچھ لوگوں کی خواہش ہے میں چلا جاؤں ، ایسے نہیں بلکہ کرکٹ کو ٹھیک کر کے ہی جاؤں گا، میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگلادیش سےشکست بہت مایوس کن ہے، پچ کی رپورٹ طلب کی ہے کل تک آجائےگی۔محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم کا یہ حال آج سے نہیں ہے، کرکٹ ٹیم کی کارکردگی خراب ہے اسے بہترکریں گے، چیزوں کوبہترکریں گے پوری امید ہےاچھےنتائج آئیں گے۔پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کا برا حال آج سے نہیں ہے، ہم تین سال سے ہار رہے ہیں۔میں کسی ایسی بات کا جواب نہیں دوں گا جو کسی کی خواہش پر مبنی ہو۔میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ ایک دم سے کرکٹ کے تمام معاملات ٹھیک ہو جائیں۔قذاقی اسٹیڈیم میں دہشت گردوں کے خلاف اقدامات پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ نے کرکٹ پر بھی بات کی اور کہا کہ جب میں چیئرمین پی سی بی بنا تو دو تین دنوں کے بعد لوگوں نے میرے استعفی کی خواہش کا اظہار کر دیا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ وقار یونس نے ہمیں تین چار ہفتے اسسٹ کیا، چیمپئنز کپ کے لیے جو پانچ مینٹورز رکھے ہیں وہ وقار یونس کی مشاورت سے ہوئے ہیں۔ ان پانچ کرکٹرز کے آنے سے ہمیں فائدہ ہو گا۔محسن نقوی نے کہا ایک ہماری کرکٹ میں یہ مسئلہ آ رہا ہے کہ کوئی بیک اپ نہیں ہے۔سرجری کا مطلب ہے ہمارے پاس آلات پورے ہوں لیکن آلات پورے نہیں ہیں۔ہم پہلے اپنا بیک اپ تیار کریں گے پھر سرجری کریں گے۔ سرجری کا کہا تو لوگوں نے فورا کہا کہ دو تین لوگوں کی گردنیں اڑا دو ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مار دھاڑ شروع کر دیں۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ چیمپئنز کپ ختم ہونے دیں پھر 150 لڑکے سامنے آئیں گے۔بنگلا دیش سے ہارنا بہت مایوس کن ہے۔میں نے راولپنڈی ٹیسٹ کی پچ رپورٹ مانگی ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے 17 لڑکے دے دیے تھے آگے کپتان اور کوچ کا کام ہے۔ ایک ہفتہ ٹورنامنٹ لیٹ ہونا یو ٹرن نہیں ہے۔ ہم اسٹیڈیمز کے تعمیراتی کاموں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ کرکٹ کو فورا ٹھیک کر دیا جائے، قومی کرکٹ کے معاملات ٹھیک ہونے کے بعد چیئرمین پی سی بی کا عہدہ چھوڑ دوں گا۔




