سال 2022ءسے پاکستانی فاسٹ باؤلرز کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی

17 ٹیسٹ میچز کی 34 اننگز میں صرف 116 وکٹیں حاصل کرسکے -فوٹو: پی سی بی

فہرست میں جنوبی افریقا ٹاپ پر موجود ہے جس کے پیسرز نے 20 میچز میں 222 وکٹیں لیں جبکہ ایک وکٹ کا ایوریج 25.76 رہا۔ انگلش پیسرز نے 33 میچز میں 26.31 کی اوسط سے 398 وکٹیں لیں

پاکستانی ٹیم کے فاسٹ باؤلرز نے سال 2022ء کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں محض 116 وکٹیں حاصل کیں۔
ٹاپ 9 ٹیموں کے چارٹ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان پیسرز نے 17 ٹیسٹ میچز کی 34 اننگز میں 38.78 کی اوسط سے 116 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دیگر ٹیموں کے مقابلے سب سے زیادہ رنز لٹائے۔فہرست میں جنوبی افریقا ٹاپ پر موجود ہے جس کے پیسرز نے 20 میچز میں 222 وکٹیں لیں جبکہ ایک وکٹ کا ایوریج 25.76 رہا۔ انگلش پیسرز نے 33 میچز میں 26.31 کی اوسط سے 398 وکٹیں لیں۔آسٹریلیا تیسرے نمبر پر رہا جس کے پیسرز نے 26.94 کی اوسط سے 29 میچوں میں 309 وکٹیں حاصل کیں جبکہ کمزور بالنگ اٹیک کہلائے جانے والے روایتی حریف بھارت کے پیسرز نے 21 میچز میں 27.91 کی اوسط سے 161 وکٹیں حاصل کیں۔
اس فہرست میں اگلا نمبر سری لنکا، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز اور بنگلادیش کا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں