190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران خان کا نیب ترامیم بحالی سے ریلیف لینے کا فیصلہ
اگر عدالت اس ریفرنس کی سماعت نہیں کر سکتی تو بری کیسے کر سکتی ہے، بریت سے قبل تو دائرہ اختیار کا تعین ہونا چاہیے-
نیب وکلاء نے عمران خان کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہی عدالت ریفرنس کی سماعت کر سکتی ہے جو عدالتی دائرہ اختیار میں ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کیس متاثر نہیں ہوتا، وکلائے صفائی کو پہلے دائرہ اختیار چیلنج کرنا چاہیے تھا
بانی پی ٹی آئی نے نیب کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کر دی۔
راولپنڈی: سپریم کورٹ سے نیب ترامیم بحالی کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی نے مقدمات سے ریلیف لینے کا فیصلہ کر لیا۔راولپنڈی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سماعت کی۔
بانی پی ٹی آئی نے نیب ترامیم بحالی فیصلے کے بعد مقدمات سے ریلیف لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے وکلاءکے ذریعے نیب کورٹ میں بریت کی پہلی درخواست دائر کر دی۔وکلائے صفائی نے کہا کہ اس ریفرنس میں بشری بی بی کی درخواست بریت پہلے ہی دائر ہے، بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو بشری بی بی کی درخواست بریت کے ساتھ منسلک کر دیا جائے۔نیب وکلاء نے عمران خان کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہی عدالت ریفرنس کی سماعت کر سکتی ہے جو عدالتی دائرہ اختیار میں ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کیس متاثر نہیں ہوتا، وکلائے صفائی کو پہلے دائرہ اختیار چیلنج کرنا چاہیے تھا وہ درخواست بریت پر آگئے، اگر عدالت اس ریفرنس کی سماعت نہیں کر سکتی تو بری کیسے کر سکتی ہے، بریت سے قبل تو دائرہ اختیار کا تعین ہونا چاہیے۔ملزم کی جانب سے دائر درخواست بریت پر عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت منگل 10 ستمبر تک ملتوی کر دی۔




