چین اور نیپال کے مابین بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں پیشرفت کیلئے فریم ورک معاہدہ طے پا گیا

نیپال کے للت پور کے میئر شری بابو مہارجن للت پور میں چین کے مالی تعاون سے قائم کردہ عوامی بھلائی منصوبے کی حوالگی تقریب سے خطاب کررہے ہیں،(شِنہوا)

بیجنگ (شِنہوا) قومی ترقی و اصلاحات کمیشن نے کہا ہے کہ چین اور نیپال نے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں پیشرفت کے لئے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔قومی ترقی و اصلاحات کمیشن کے نائب سربراہ لیو سوشی اور نیپال کے قائم مقام وزیر خارجہ امرت بہادر رائے نے اپنی اپنی حکومتوں کی جانب سے معاہدے پر دستخط کئے۔اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک “ایک ساتھ منصوبہ بندی، ایک ساتھ تعمیر اور ایک ساتھ فائدہ اٹھانے” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے معیشت، مالیات، نقل و حمل، ترسیل ، تجارت، صنعتی سرمایہ کاری اور کسٹمز جیسے اہم شعبوں میں عملی تعاون مستحکم کریں گے۔قومی ترقی و اصلاحات کمیشن نے کہا کہ فریم ورک معاہدے پر دستخط چین اور نیپال کے درمیان سیاسی باہمی اعتماد وسیع کرنے اور اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں پیشرفت کے لئے بہت اہم ہیں۔

چین نے مٹی کا پروفائل ڈیٹا سیٹ جاری کر دیا
بیجنگ(شِنہوا)چین نے بیجنگ میں اپنے مٹی کے پروفائل ڈیٹاسیٹ کی رونمائی کردی ہے۔چائنہ سائنس ڈیلی میں جمعہ کو شائع ہونے والی خبرکے مطابق ملک نے مٹی کا ایک جامع، اعلیٰ درستگی کا حامل ڈیجیٹل ڈیٹا بیس مکمل کر لیا ہے جو ایک وسیع علاقے پر مشتمل ہے۔ڈیٹاسیٹ چین کے مٹی کے وسائل اور معیار کی عکاسی کرتا ہے۔یہ 25 جلدوں اور2 کروڑ75 لاکھ 10 ہزار الفاظ پر مشتمل ہے جو ملک بھر میں 2 ہزار 200 کاؤنٹیزمیں 63 ہزار سے زائد مٹی کے پروفائلز سے جمع کیا گیا ہے۔تحقیقی ٹیم مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور مٹی کے سائنس کے طریقوں کے ساتھ کارٹوگرافی پر مشتمل ہے۔ڈیٹا سیٹ کی تیاری کا آغاز 1999 میں ہوا تھا۔ اس کی اشاعت چین کی مٹی کی سائنسی تحقیق کو بنیادی اعداد و شمار فراہم کرے گی اور جیو سائنسز،ماحولیاتی علوم،زراعت اور اقتصادیات کے شعبوں میں اختراعی تحقیق کو فروغ دے گی۔یہ ڈیٹا سیٹ اعلیٰ درستگی کے حامل مٹی کے زمانی و مکانی بڑے ڈیٹا کے ساتھ قومی اہم کاموں میں خدمات انجام دے چکا ہے، جن میں تیسرا قومی مٹی سروے شامل ہے۔یہ ڈیٹا سیٹ ژے جیانگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پبلیشنگ ہاؤس کے ذریعے شائع کیا گیا تھا۔

چین نے 504۔ کیوبٹ “شیاؤ ہونگ” چپ سے لیس “تھیان یان-504” سپرکنڈکٹنگ کوانٹم کمپیوٹر لانچ کرکے نیا مقامی ریکارڈ بنادیا۔(شِنہوا)

چین نے 504۔کیوبٹ سپرکنڈکٹنگ کوانٹم کمپیوٹر متعارف کروا کر نیا ریکارڈ بنا دیا
ہیفے (شِنہوا) چین نے 504۔ کیوبٹ “شیاؤ ہونگ” چپ سے لیس “تھیان یان۔504” سپرکنڈکٹنگ کوانٹم کمپیوٹرمتعارف کر واتے ہوئے ایک نیا مقامی ریکارڈ قائم کردیا جو کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔کوانٹم کمپیوٹر کو چائنہ ٹیلی کام کوانٹم گروپ (سی ٹی کیو جی) ، چینی اکیڈمی برائے سائنسز کے ماتحت سینٹر فار ایکسیلینس اِن کوانٹم انفارمیشن اینڈ کوانٹم فزکس اور مشرقی صوبے انہوئی میں قائم ایک معروف کوانٹم کمپنی کوانٹم سی ٹیک کمپنی لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔سی ٹی کیو جی کے مطابق ’’ تھیان یان ۔504 ‘‘ نے 500۔ کیوبٹ چپ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور آئی بی ایم جیسے بین الاقوامی کوانٹم کمپیوٹنگ پلیٹ فارمز کی کارکردگی کو کیوبٹ لائف ٹائم، ریڈ آؤٹ فیڈیلٹی اور دیگر اہم پہلوؤں کے اعتبار سے بھی میچ کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔اس کوانٹم کمپیوٹر کو “تھیان یان ” کوانٹم کمپیوٹنگ کلاؤڈ پلیٹ فارم میں ضم کیا جائے گا تاکہ دنیا بھر کے صارفین کو اس تک رسائی مل سکے۔چائنہ ٹیلی کام کا کوانٹم کمپیوٹنگ کلاؤڈ پلیٹ فارم “تھیان یان ” نومبر 2023 میں شروع کیا گیا تھا جسے اب تک 50 ممالک سے 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد بار استعمال کیا جاچکا ہے۔یہ عالمی صارفین کو آسان اور براہ راست کوانٹم کمپیوٹنگ خدمات فراہم کرتا ہے۔

چین کے صوبہ ہائی نان کے سنشا شہر کے ژاؤ شو جزیرے میں ایک مچھیرا ماہی گیری کر نے کے بعد واپس لوٹ رہا ہے۔(شِنہوا)

چین میں جنگ عظیم دوم میں بہادری کے واقعے کی یادگار کی رونمائی
ہانگ ژو (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ میں 82 برس قبل لزبن مارو حادثے میں سینکڑوں برطانوی جنگی قیدیوں کی جان بچانے والے چینی ماہی گیروں کی یاد میں ایک یادگار کی رونمائی کردی گئی ہے۔چینی اکیڈمی برائے فنون کی ڈیزائن اور تیار کردہ اس یادگار میں اس تاریخی لمحے کی عکاسی کی گئی جب ژو شان کے مقامی ماہی گیروں نے امدادی کاموں کے دوران اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔یادگار کی لمبائی 4.5 میٹر، اونچائی 1.8 میٹر اور چوڑائی 1.7 میٹر ہے۔ اس کا وزن تقریباً ایک ٹن ہے اور یہ بحری کانسی سے تیار کی گئی ہے۔اس کے بائیں طرف چینی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ”ڈونگ جی ماہی گیروں کی برطانوی جنگی قیدیوں کو بچانے کی یادگار” اور ”محبت کی کوئی سرحد نہیں ہے، دوستی وقت سے ماورا ہے” تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ واقعے کی تفصیل بھی درج کی گئی ہے۔اکتوبر 1942 میں جاپانی فوج 1 ہزار 800 سے زائد برطانوی جنگی قیدیوں کو مال بردار بحری جہاز لزبن مارو کے ذریعے ہانگ کانگ سے جاپان لے جارہی تھی۔ اس بحری جہاز کو چینی صوبے ژے جیانگ کے جزیرے ژو شان کے قریب ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا تھا۔ مقامی ماہی گیروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر اس میں 380 سے زائد جنگی قیدیوں کو بچالیا تھا۔

چین کے مشرقی صوبے جیانگسو کے شہرلیان یون گانگ میں چائنہ ٹاورکا تعمیرکردہ ایک 5 جی بیس اسٹیشن دیکھا جاسکتا ہے۔ (شِنہوا)

چین میں 5 جی بیس اسٹیشنز کی تعداد 41 لاکھ ہوگئی
بیجنگ (شِنہوا) چین میں 5 جی بیس اسٹیشنز کی تعداد 41 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جمعہ کے روز جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اس وقت 5 جی ٹیکنالوجیز کا اطلاق قومی معیشت کے 80 بڑے شعبوں میں کیا جاچکا ہے اور 5 جی نیٹ ورک زیادہ دیہی علاقوں کا احاطہ کررہا ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ 5 جی ٹیکنالوجیز کے بڑے پیمانے پر اطلاق کے فروغ اور ٹیکنالوجی تحقیق و ترقی کے ساتھ ساتھ معیارات کی تشکیل سے متعلق اقدامات کئے جائیں گے۔ایک مضبوط 5 جی ایکو سسٹم کی تعمیر کے لئے ٹیلی کام فراہم کنندگان، ایپلی کیشن تیار کرنے والے اور صنعتی چین سے منسلک اداروں کے درمیان تعاون کے فروغ کی کوششیں کی جائیں گی۔گزشتہ ماہ جاری کردہ ایک لائحہ عمل میں 2027 کے اختتام تک 5 جی استعمال کرنے والے صارفین کی شرح 85 فیصد سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں