چین اور یورپی یونین کا کثیر الجہتی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا عزم

امریکی اضافی محصولات دوسرے ممالک کے جائز مفادات کی سنگین خلاف ورزی اور عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کے منافی ہیں

بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت نے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ چین اور یورپی یونین نے مشترکہ طور پر کثیرالجہتی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے کا عزم کیا ہے جس میں عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
یہ اعلامیہ جمعرات کے روز چینی وزیر تجارت وانگ وین تاؤ اور یورپی کمشنر برائے تجارت و اقتصادی سلامتی ماروس سیف کووچ کے درمیان ویڈیو پر بات چیت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔اس کے دوران انہوں نے چین ۔ یورپی یونین اقتصادی اور تجارتی تعاون میں اضافے اور امریکہ کی جانب سے نام نہاد اضافی محصولات کے نفاذ پر ردعمل سمیت مختلف امور پر بات چیت کی۔وانگ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے اضافی محصولات دوسرے ممالک کے جائز مفادات کی سنگین خلاف ورزی اور عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کے منافی ہیں ۔ یہ قواعد پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کو کمزور کرکے عالمی اقتصادی نظام کا استحکام متاثر کرتے ہیں۔وانگ نے کہا کہ امریکی اقدام یکطرفہ، تحفظ پسندی اور معاشی غنڈہ گردی کا ایک عمومی طرز عمل ہے۔ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اپنے حقوق اور مفادات کے دفاع کے لئے جوابی اقدامات کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تجارتی جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا ہے اور تحفظ پسندی کی کہیں گنجائش نہیں ہے۔سیف کووچ نے بات چیت کے دوران کہا کہ امریکی محصولات نے عالمی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور یورپی یونین عالمی تجارت کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کے لئے چین سمیت عالمی تجارتی تنظیم کے دیگر ارکان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور چین سے بات چیت اور رابطے مضبوط بنانے اور دو طرفہ مارکیٹ تک رسائی، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔

چین نے شادی کے اندراج کا طریقہ کار آسان بنادیا

بیجنگ (شِنہوا) چین نے شادی کے اندراج سے متعلق نئے نظرثانی شدہ قانون جاری کردیئے ہیں جو 10 مئی سے لاگو ہوں گے ۔وزیر اعظم لی چھیانگ نے نظرثانی شدہ قانون کے نفاذ کے ریاستی کونسل کے حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں۔6 ابواب اور 28دفعات پر مشتمل ان نظرثانی شدہ قانون میں شادی کی خدمات کو بہتر اور اندراج کو آسان بنانے کے لئے نمایاں ترامیم شامل ہیں۔ایک اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ اب جوڑوں کو مستقل رہائشی علاقوں یا ہوکو مقام پر شادیوں کے اندراج کی ضرورت نہیں ہوگی۔وزارت شہری امور ایک قومی شادی معلومات کے کوائف کی ذمہ دار ہوگی اور شادی کی معلومات کو درست، بروقت اپ ڈیٹ اور محفوظ بنانے کے لئے دیگر اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کاایک نظام قائم کرے گی۔

137 ویں کینٹن میلے میں 31ہزار ادارے شرکت کریں گے

بیجنگ (شِنہوا) چین کے جنوبی شہر گوانگ ژو میں 15 اپریل سے 5 مئی تک منعقد ہونے والے 137 ویں چائنہ درآمدات و برآمدات نمائش میں 31 ہزار ادارے شرکت کریں گے ۔ اسے عام طور پرکینٹن میلہ بھی کہا جاتا ہے۔چائنہ غیرملکی تجارتی مرکز نے بتایا کہ نمائش کا مجموعی رقبہ 15لاکھ50 ہزار مربع میٹر ہوگا جس میں تقریباً 74 ہزار بوتھس بنائے گئے ہیں، ان میں تقریباً 73 ہزاربرآمدات جبکہ تقریباً 1ہزار600 درآمدات کے لئے ہوں گے۔نمائش کا انعقاد 3 مراحل میں ہوگا ۔ پہلے مرحلے میں جدید پیداوار پر توجہ مرکوز کی جائے گی ، دوسرا مرحلہ معیاری گھریلو فرنیچر جبکہ تیسرا مرحلہ زندگی کا معیار بہتر کرنے والی مصنوعات پر مشتمل ہوگا۔ میلے میں 172 مصنوعات زون بنائے گئے۔رواں سال شرکت کرنے والے اداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ نمائش سے تقریباً 900 زائد ہے۔نمائش کے پہلے مرحلے میں پہلی بار خدمات روبوٹس کے لئے ایک خصوصی علاقہ قائم کیا گیا ہے تاکہ چین کی اے آئی ترقی کی تازہ ترین کامیابیوں کو اجاگر کیا جاسکے۔کینٹن میلہ سال میں 2 بار گوانگ ژو میں منعقد ہوتا ہے۔ یہ چین میں متعدد جامع بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں طویل ترین عرصے سے جاری نمائش ہے جسے چین کی غیر ملکی تجارت کا پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا آغاز 1957 میں ہوا تھا۔

ایس سی او ارکان پر کثیر الجہتی عالمی تجارتی نظام برقرار رکھنے پر زور

تیانجن (شِنہوا) چین کے نائب وزیر تجارت نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی تجارتی تنظیم کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کثیر الجہتی عالمی تجارتی نظام کی تائید کے لئے مل کر کام کریں اور عالمی معیشت کو ضمانت اور مثبت رفتار مہیا کریں۔نائب چینی بین الاقوامی تجارتی نمائندے لنگ جی نے جمعرات کو شمالی شہر تیانجن میں پائیدار ترقی کے لئے چین-ایس سی او صنعتی تعاون کانفرنس میں کہا کہ امریکہ کے اپنے تجارتی شراکت داروں پر عائد کردہ اضافی ٹیکس عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ چین نے کثیر الجہتی تجارتی قوانین اور مروجہ عالمی تجارتی نظام کے ساتھ ساتھ اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ٹھوس جوابی اقدامات کئے ہیں۔لنگ کا کہنا تھا کہ چین عالمی تجارتی تنطیم کے اصولوں اور قواعد کو برقرار رکھنے ، علاقائی تجارت اور آزادنہ سرمایہ کاری کی سہولت کے فروغ کے لئے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین اور ایس سی او ارکان، مبصر ممالک اور مذاکراتی شراکت داروں کے درمیان تجارت 890 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جو چین کی مجموعی بیرونی تجارت کا تقریباً 14.4 فیصد ہے۔چین رواں سال خزاں میں تیانجن میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

چین آؤٹ ڈور کھیلوں کے لئے اعلیٰ معیار کے مقامات قائم کرے گا

بیجنگ (شِنہوا) قومی ترقی و اصلاحات کمیشن کا کہنا ہے کہ چین 2030 تک آؤٹ ڈور کھیلوں کے لئے تقریباً 100 اعلیٰ معیار کے مقامات تعمیر کرکے اپنے ہدف کے بروقت حصول کو یقینی بنائے گا۔کمیشن کے ایک مراسلے کے مطابق آؤٹ ڈور کھیلوں کے اعلیٰ معیار کے مقامات کے لئے 4 اہم معیار مقرر کئے گئے ہیں جن میں بھرپور قدرتی وسائل کی فراوانی، واضح ترقیاتی منصوبے، نمایاں ترقی کا امکان اور مستحکم مقامی مالی حالات شامل ہیں۔مراسلے کہا گیا ہے کہ ہر صوبہ پہلے مرحلے میں آؤٹ ڈور کھیلوں کے اعلیٰ معیار کے مقامات کےلئے زیادہ سے زیادہ پریفیکچر سطح کے 4 شہرو ں کو نامزد کر سکتا ہے۔ حتمی انتخاب مرکزی حکومت کے متعلقہ محکمے ماہرین کے تجزیے اور بین الوزارتی جائزے کی بنیاد پر کریں گے۔آؤٹ ڈور کھیلوں سے مراد بنیادی طور پر وہ جسمانی سرگرمیاں ہیں جو قدرتی یا بیرونی ماحول پر انحصار کرتی ہیں، ان میں عام طور پر اسکیئنگ، چٹان چڑھنا، خودکار ڈرائیونگ اور کشتی چلانا شامل ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں