امریکہ کا دجالی نظام
کچھ عرصے بعد جب امریکی حکومت کو یقین ہو گیا کہ اب عوام نے اپنا سونا حکومت کو دے دیا ہے تو انہوں نے سونے کا نیا ریٹ 35 ڈالر فی اونس لگایا
امریکہ کا دجالی نظامِ جب نافذ ہوا تو پوری دنیا میں صرف ایک ہی بندے نے اس پر احتجاج کیا اسلامی دنیا میں سے کسی بھی حکمران عالم یا دانشور کو یا تو اس گہری سازش کی سمجھ ہی نہیں آئی یاانہوں نے اس پر بات کرنا ہی مناسب نہ سمجھا .
یہ 1930 کے عشرے کی بات ہے امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ جس امریکی شہری کے پاس سونا موجود ہے وہ فلاں تاریخ تک حکومت کے پاس جمع کرا دے اس کے بدلے اسے فی اونس کے حساب سے 20 ڈالر دئیے جائیں گے اور اگر مقررہ تاریخ کے بعد کسی کے پاس سونا نکل آیا تو اسے سزا دی جائے گی لوگوں نے دھڑا دھڑ سونا حکومت کو بیچنا شروع کر دیا لیکن بعض سیانے سمجھدار لوگ خفیہ طور پر اپنا سونا لے کر امریکہ سے بھاگ کر یورپ آ گئے .کچھ عرصے بعد جب امریکی حکومت کو یقین ہو گیا کہ اب عوام نے اپنا سونا حکومت کو دے دیا ہے تو انہوں نے سونے کا نیا ریٹ 35 ڈالر فی اونس لگایا اور عوام کو آفر کی کہ اب وہ نئی قیمت پر اپنا سونا واپس خرید سکتے ہیں لوگوں نے نئی قیمت پر سونا خریدنا شروع کر دیا یوں امریکی حکومت نے بیٹھے بیٹھے 15 ڈالر فی اونس کے حساب سے عوام کو بڑا چونا لگا دیا .اصل میں اس ساری گیم کا مقصد ایک ٹیسٹ تھا جو پہلے انہوں نے اپنی عوام پر آزمایا جو کہ کامیاب ہوا کہ کس طرح کرنسی کی ویلیو تبدیل کرنے سے دنیا کو لوٹا جا سکتا ہے امریکی عوام کو دھوکہ دینے کے بعد اس گیم کو عالمی سطح پر کھیلنے کا فیصلہ ہوا یوں فیصلہ ہوا کہ آئندہ کاغذی کرنسی ہی کے اندر کاروبار خرید و فروخت ہوا کرے گی اور اس کرنسی کا تعلق سونے سے ہو گا امریکی ڈالر کو منفرد مقام دیا گیا یعنی اگر آپ سونا خریدنا چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس پہلے امریکی ڈالر ہونے چاہیں اور پھر آپ کو ڈالر لے کر امریکی سنٹرل بینک آنا پڑے گا جہاں آپ کو سونا دیا جائے گا اس کے علاوہ کہیں بھی آپ کے ڈالر یا کوئی بھی کرنسی آپ کو سونا نہیں دلا سکتی .یہ دجالی نظامِ جب نافذ ہوا تو پوری دنیا میں صرف ایک ہی بندے نے اس پر احتجاج کیا اسلامی دنیا میں سے کسی بھی حکمران عالم یا دانشور کو یا تو اس گہری سازش کی سمجھ ہی نہیں آئی یا انہوں نے اس پر بات کرنا ہی مناسب نہ سمجھا وہ احتجاج کرنے والا ایک فرانسیسی راہنما چارلس ڈیگال تھا وہ ایک عظیم رہنما تھا اس نے اس نظام کو چیک کرنے کیلئے ڈالرز کی بڑی رقم کا بندوبست کیا اور امریکہ جا پہنچا تاکہ اس کے بدلے سونا خریدا جا سکے لیکن امریکیوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ بے شک ہم نے وعدہ کیا تھا لیکن ہم آپ کو سونا نہیں دے سکتے چارلس ڈیگال نے فرانسیسی پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلے پر آواز بلند کی لیکن صیہونیوں کا فرانسیسی پارلیمنٹ میں اثر و رسوخ اتنا تھا کہ چارلس کی تقاریر کا کچھ فائدہ نہ ہوا.یوں اس جعلی نظام کو دنیا پر نافذ کر دیا گیا کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے جس ملک کو غریب رکھنا ہوتا ہے یا سبق سکھانا ہوتا ہے اس کی کرنسی ہمیشہ ڈی ویلیو رکھی جاتی ہے یہ دجالی نظام کا سب سے بڑا ہتھیار ہے وہ گھر بیٹھے آپ کو لوٹ رہے ہیں آپ اس پر انہیں داد دیں یا اپنی کمزوری یا نالائقی پر سر پیٹیں یہ آپ کی مرضی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کاغذی کرنسی کیوں ایک جعلی کرنسی ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ ایک کاغذ ہے اور اس کاغذ کی اپنی کوئی خاص قیمت نہیں شاید ایک نوٹ پر لگنے والے کاغذ کی قیمت ایک روپے بھی نہ ہو اگر اس نوٹ کو تیار کرنے میں سیاہی لکھائی پرنٹنگ کا سارا خرچہ بھی ملا لیں تو انتہائی معمولی ہے یعنی اس کاغذی نوٹ کی اپنی ٹکے کی قیمت نہیں لیکن اسے چالاکی کے ساتھ سونے سے منسلک کیا گیا اس پر ایک جعلی قیمت لکھی جاتی ہے مثلا فلاں نوٹ پر 100 ڈالر لکھ دیا فلاں پر 5000 روپے لکھ دیا لیکن کیا اس کے برابر سونا بھی مارکیٹ میں موجود ہے تو اس کا جواب ہے بالکل نہیں .اس سارے شیطانی نظام کا سرغنہ امریکہ ہے اس کے پاس سونے کے انبار ہیں لیکن وہ جو ڈالر چھاپ رہا ہے اس کی قیمت سونے سے کہیں زیادہ ہے اگر سارے ملک ڈالر لے کر امریکی بینک چلے جائیں تو اس کے برابر سونا نہیں ملے گا یہ سارا نظام قائم کرنے کا مقصد دنیا سے سونے کی بڑی مقدار کو غائب کر کے دجال کیلئے سونے کا انبار لگانا ہے اس وقت دنیا کی تجارت عام لین دین کاغذی کرنسی پر ہو رہا ہے سونا کدھر ہے یہ دجال کی تجوریوں میں موجود ہے جب دجال آئے گا تو اس کے پاس دولت کے انبار ہوں گے وہ دولت کاغذی کرنسی کی فیک دولت نہیں بلکہ اصلی خالص سونا ہو گا جس سے وہ لوگوں کو خریدنے کی کوشش کرے گا ویسے دنیا بھر کے حکمران پہلے ہی بک چکے ہیں کیونکہ دجالی نظام تو کب کا نافذ ہو چکا اب بڑی جنگ کا انتظار ہے اور قسطنطنیہ کی فتح کے فوری بعد دجال کا خروج ہو گا ۔Copied





