سب سے قیمتی چیز
تحریر:احمدخان اعوان
کیا کبھی ہم نےاپنےدل کے آئینے میں جھانک کر پوچھا:
“میری سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟”
آخر کب تک ہم بکرا دے کر جان چھڑاتے رہیں گے؟
کب تک ہم ذائقوں کو عبادت کا لباس پہنا کر، نفس پرستی کو نیکی کے عنوان میں چھپاتے رہیں گے؟
ہر دل میں جوش، ہر گھر میں تیاری، ہر زبان پر تکبیر۔۔۔
یہ صرف جانوروں کی قربانی کا موقع نہیں،یہ اپنی خواہشات، انا اور نفس کی گردن پر چھری رکھنے کا لمحہ ہے۔
قربانی محض رسم نہیں،یہ حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے، جنہوں نے اپنے بیٹے کی گردن پر چھری رکھنے سے پہلے دل کی زمین پر اپنا آپ قربان کیا۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:”اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں، نہ ان کا خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”(الحج: 37)
بکرا دینا سنت ہے،اور اپنا نفس قربان کرنا فرض۔کیونکہ…
“جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے!”قربانی تو بکرے نے دی…خون اس کا بہا، گردن اس کی کٹی، تکلیف اس نے جھیلی،
اور ہم کہہ دیتے ہیں: “ہم نے قربانی دی؟”
نہیں صاحبو!قربانی وہ ہے جس میں تم اپنی “میں” کو ذبح کرتے ہو،جہاں تم خواہشوں کی چھری نفس پر چلاتے ہو،جہاں تم غرور، انا، حسد، کینہ، نفرت جیسے اندر کے جانوروں کو قربان کرتے ہو۔
حضرت حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں نماز، روزہ، صدقہ اور حج جیسی بنیادی عبادات اکٹھی ہو جاتی ہیں،جو کسی اور وقت میں جمع نہیں ہوتیں۔”
(فتح الباری: 2/534)اور انہی دنوں کے آخر میں آتی ہے وہ عظیم عبادت: قربانی۔
لیکن یاد رکھو،جہاں سنتِ ابراہیمی جانور کی قربانی ہے،وہیں سنتِ محمدی ﷺ دل سے نفرت، کینہ، حسد اور خودغرضی کی قربانی ہے۔
تو آئیے…
اس عید پر صرف بکرے نہیں،وہ لہجے بھی قربان کریں جو دلوں کو زخمی کرتے ہیں،
وہ آنکھیں جو حقیر دیکھتی ہیں،وہ دل جو رنجشیں پالتے ہیں،
وہ زبانیں جو دوسروں کی غیر موجودگی میں زہر اُگلتی ہیں…اللہ کے حضور جھک کر کہہ دیں:
یا رب! ہم قربان کرتے ہیں اپنی ‘میں’، اپنے نفس کو…قبول فرما جیسے تُو نے ابراہیم خلیل اللہ کی قربانی قبول فرمائی تھی۔
🌹 خوشیاں بانٹیے، دل جوڑیے، اور زندگی کو محبت کے ساتھ جِییئے… نہ کہ صرف گزار دیجیے۔




