ہونٹوں پہ کبھی ان کے تیرا نام ہی آئے

رہی بات ان طاقتوروں کے نام لینے کی، تو جناب یہ جرات وفاقی وزیر میں نہیں، یہ خاکسار تو کسی گنتی میں شمار ہی نہیں ہوتا

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے انکشاف کیا ہے کہ راوی کنارے 10 طاقتور لوگوں کے ریزارٹس کو بچانے کے لیے غریب عوام کی بستیاں کی بستیاں ڈبو دی گئی ہیں۔ وزیر موصوف نے وہ بات کہی ہے جو عام لوگ کہتے ہیں اور صرف کہہ ہی سکتے ہیں، کر کچھ نہیں سکتے۔ مصدق ملک نے بھی ان مین سے کسی طاقت ور کا نام نہیں لیا، اسی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ کتنے طاقتور لوگ ہیں کہ ایک وفاقی وزیر بھی ان کا نام نہیں لے سکتے۔ چلیں چھوڑیں، یہ کوئی پہلی بار تھوڑا ہوا ہے۔ یہاں تو نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی، نجی بنک، نجی ٹی وی چینل کہنا اب معمول بن چکا کہ ہر شعبے کے اپنے اپنے بڑے اور اپنے اپنے طاقتور ہیں جن کا کوئی نام نہیں لیتا اور شائد لے بھی نہیں سکتا۔ جب سے مون سون کا آغاز ہوا ہے آئے روز کسی ایسے طاقتور کے کیے دھرے کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں، املاک تباہ ہو رہی ہیں مگر کسی طاقتور کے خلاف کارروائی کیا ہونی ہے، نام تک سامنے نہیں آئے۔ پہاڑی علاقوں میں ایک بات عموماً کہی جاتی ہے کہ دریاﺅں کے کنارے پڑے، چھوٹے بڑے، رنگ برنگے پتھر دریاﺅں کے انڈے ہیں اور دریا ان کو سینچنے ضرور آتے ہیں۔ جہاں تک یہ پتھر پڑے ہوں وہ دریا کا علاقہ ہے اور دریا اپنی زمین واگزار کرانے ضرور آتا ہے۔ جتنی بڑی رکاوٹ ہو گی اتنی ہی زیادہ طاقت کے ساتھ دریا آئے گا اور اپنی زمین واگزار کرائے گا۔ مگر ہمارے طاقتور بھی اپنی دھن کے پکے ہیں۔ دریا ان تعمیرات کو گراتا ہے تو مرتے وہ ہیں جو چند دن کے لیے موسم کو انجوائے کرنے آتے ہیں۔ گرنے والی تعمیرات کے مالکان اگلا سیزن آنے سے پہلے پہلے وہ عمارتیں پھر کھڑی کر لیتے ہیں، پہلے سے بھی بڑی عمارتیں۔ طاقت ور جو ٹھہرے۔
پہاڑی علاقوں میں یہ کام انفرادی سطح پر ہوتا ہے تو شہروں میں یہ کام منظم طریقے سے ہوتا ہے۔ جتنا بڑا شہر اتنے ہی بڑے طاقتور مل جاتے ہیں۔ ڈرا دھمکا کر، زور زبر دستی لوگوں کی زمینیں ہتھیائی جاتی ہیں، دریاﺅں اور ندی نالوں کی زمینوں کی رجسٹریاں بھی ہو جاتی ہیں، ہاﺅسنگ سکیمیں بن جاتی ہیں، لے آﺅٹ پلان بھی منظور ہو جاتے ہیں۔ دریاﺅں کی رہی سہی زمینوں پر بیوٹی فیکیشن کے نام پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ جو زمین دریا کی تھی اس کی رجسٹریاں اور انتقالات ہونے کا فارمولا بھی ان طاقتوروں کے پاس ہے یا یہ گر بیورو کریسی جانتی ہے کہ کس قانون کے تحت ان زمینوں کی رجسٹریاں اور انتقالات ہوتے ہیں اور ان زمینوں پر بنی ہاﺅسنگ سکیموں کے لے آﺅٹ پلان منظور ہوتے ہیں۔ یہ کام تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی اتنی صفائی کے ساتھ ہو گیا کہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کب سواں اور اس کے معاون دریا و ندی نالے اپنی ہی زمین سے محروم اور بے دخل کر دیئے گئے۔ بونیر میں ماربل مافیا کس بے رحمی سے پہاڑ کاٹ رہا ہے، کوئی روکنے اور پوبھنے والا نہیں۔ جہاں گاﺅں اور پوری پوری آبادیاں ملیا میٹ ہو گئیں کوئی ان کا نام تک نہیں لیتا۔لاہور کیونکہ زیادہ بڑا شہر ہے اس لئے وہاں طاقتور بھی زیادہ ہیں اور یہ کام بھی زیادہ منظم انداز میں ہوا۔ دریائے راوی کی بیوٹیفیکیشن ( خوبصورتی) اور اس ”مردہ دریا“ کو زندہ کرنے کے نام پر آج سے دس بارہ سال قبل ایک منصوبہ بنایا گیا مگر وہ منظور نہ ہو سکا اور وہ فائل کہیں کسی ”کاریگر“ نے دبا کر محفوظ کر لی۔ حکومت تبدیل ہوئی تو اس فائل نے پھر انگڑائی لی، حکمرانوں تک پہنچی اور منظوری میں بھی ”منٹ لگا“۔ پھر راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے نام نیا ادارہ بھی وجود میں آگیا کیونکہ اتنے بڑے اور بھاری منصوبے کا بوجھ اٹھانا بے چارے ایل ڈی اے کے بس کی بات نہیں تھی۔ پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیموں کے لیے ”سرکاری مشینری“ استعمال ہوئی اور انگریزوں کے بنائے کسی کالے قانون کے تحت پشت در پشت مالکان کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا۔ وہ حکومت ختم ہوئی تو نئے حکمرانوں نے بھی یہ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا، جو پچھلی حکومت میں اسے ظلم عظیم قرار دیتے رہے تھے۔ دریا کی زمین پر قبضہ تو ایک طرف، اپنی اپنی سہولت کے لیے دریا کا رخ بھی موڑنے کی کوشش کی گئی۔ شنید ہے کہ راوی کے گرد کی زر خیز زمین پر سو کے قریب ہاﺅسنگ سکیمیں اگ آئی ہیں۔ فصلوں کا کیا ہے وہ تو کہیں بھی اگائی جا سکتی ہیں۔ نہیں اگائی جا سکیں گی تو زرعی اجناس باہر سے امپورٹ کر لی جائیں گی۔ اس امپورٹ سے بھی کچھ بڑوں اور طاقتوروں کا بھلا ہو جائے گا کہ ان کو بھی اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے مالی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کروڑوں اربوں روپے کی ضرورت ہے۔ رہی بات ان طاقتوروں کے نام لینے کی، تو جناب یہ جرات تو وفاقی وزیر میں نہیں، یہ خاکسار تو کسی گنتی میں شمار ہی نہیں ہوتا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں