یوم دفاع پر اسلام آباد ایک بڑی دہشت گردی سے بچ گیا
اسلام آبادمیں بنوں کینٹ اور پشاور اے پی ایس طرز کے حملےکوسول انٹیلیجنس ایجنسی اور سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دیا
اسلام آباد: (جاگیرنیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکورٹی ادروں کی بڑی کارروائی یوم دفاع کے موقع پردہشت گردی کا بڑامنصوبہ ناکام بنادیا.
تفصیلات کے مطابق یوم دفاع کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں بنوں کینٹ اور پشاور اے پی ایس طرز کے حملےکوسول انٹیلیجنس ایجنسی اور سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دیا ،ایک خفیہ اطلاع پر سویلین انٹیلی جنس ایجنسی نے اہم سہولت کاروں اور ایک خودکش بمباروں کو گرفتار کیا جو کہ حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اس سازش کا آغاز اس گروپ سے ہوا جس کی قیادت پہلے نور ولی محسود کر رہے تھے،پھریہ ذمہ داری قلعہ عبداللہ (بلوچستان) کے رہنے والے شخص کو سونپی گئی جس نے اپنے والد کے ساتھ گھر واپس آنے سے پہلے اسلام آباد کی ہوٹل انڈسٹری میں کام کیا تھا اور اب وہ جڑواں شہروں کے کمانڈر کے طور پر کام کر رہا ہے، خودکش حملہ آور ایک افغان شہری ہے جو ٹی ٹی پی سے وابستہ ہے اور اس سے پہلے کابل میں بطور مزدور کام کرتا تھا. انٹیلیجنس ایجنسی کے باوثوق ذرائع کے مطابق خود کش بمباروں کو جنوبی وزیرستان کے رہنے والے اور نور ولی محسود اور حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی مخلص یار (عرف حاجی لالا) کو افغانستان کے پکتیکا میں الفاروق فدائی کیمپ میں تربیت دی آپریشنل کمانڈر اور بمبار دونوں اس کیمپ سے تربیت حاصل کرتے رہے، ذرائع کے مطابق کمانڈر کا ابتدائی کام جڑواں شہروں میں حساس اہداف کی چھان بین کرنا تھا جس کے بعد جون میں، اس نے ایک میٹنگ کے لیے افغانستان کا سفر کیا جہاں اسلام آباد کے ہدف کو حتمی شکل دی گئی تھی . جولائی میں وہ اور خودکش بمبار اسلام آباد چلے گئے اور ترنول اسلام آباد میں ایک گھر کرایہ پر لیا ایک سوزوکی پک اپ حاصل کی دھماکا خیز مواد، اسلحہ اور سامان لے جانے کے لیے گاڑی میں خصوصی خانے بنائے گئے تھے، مبینہ طور پر افغانستان میں ہنڈی سسٹم کے ذریعے فنڈنگ کی گئی چھ اضافی خودکش بمبار اس آپریشن میں شامل ہونے کے لیے تیار تھے .ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ بنوں کنٹونمنٹ حملے اور پشاور اے پی ایس کی عکاسی کرتا ہے، چار حملہ آور گاڑیوں میں دستی بموں اور گولیوں سے ہدف کو نشانہ بناتے جبکہ تین رکنی پیچھے کی ٹیم آنے والی ریسکیو فورسز کو روکے گی تاہم، انٹیلی جنس بیورو کو ابتدائی معلومات حاصل ہوئیں جس نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا اور تمام فتنہ الخوارج بھارتی سپانسرڈ کمانڈر اور خود کش بمباروں کو زندہ کو گرفتار کر لیا گیا،جس سے دارالحکومت اسلام آباد ایک بڑی دہشت گردی سے بچ گیا ۔




