وفاق کی مضبوطی اور ملکی سلامتی کے لیے اپنا بھرپور کردار نبھاتےرہیں گے،بلاول
ہم ایسے کسی حکومتی اقدام کا ساتھ نہیں دیں گے جو وفاق کو کمزور کرنے اور صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ کے مترادف ہو ۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواہ، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان آپس میں بھائیوں کی طرح ہیں، “ہم سب مِل کر مودی کا مقابلہ کرسکتے ہیں”،چیئرمین بلاول کایوم تاسیس پر خطاب۔
کراچی (جاگیرنیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کے 58 ویں یوم تاسیس پر عوام کے حقوق کے تحفظ، وفاق کی مضبوطی اور ملکی سلامتی کے لیے اپنا بھرپور کردار نبھاتے رہنے کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسے کسی حکومتی اقدام کا ساتھ نہیں دیں گے جو وفاق کو کمزور کرنے اور صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ کے مترادف ہو۔
انہوں نے پاکستانی قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواہ، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان آپس میں بھائیوں کی طرح ہیں، “ہم سب مِل کر مودی کا مقابلہ کرسکتے ہیں”۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پی پی پی چیئرمین نے اپنی جماعت کے 58 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیجیٹل جلسئہ عام سے خطاب کیا۔ انہوں نے ملک بھر کے 100 سے زائد شہروں میں بیک وقت ہونیوالی تقریبات کو میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا۔ اس موقع پر خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ اسٹیج پر موجود تھیں ۔جبکہ اس تاریخی ڈجیٹل جلسہ عام کی نظامت کی ذمہ داری پی پی پی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی نے نبھائی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سب سے بڑے ڈجیٹل جلسہ عام کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا،”ہم نے آج ایک تاریخ رقم کردی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اِس وقت ملک کے ہر ضلع میں منعقدہ یوم تاسیس کی تقریبات میں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سپاہی اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے بھائی اور بہنیں موجود ہیں۔ “میں اس وقت آزاد کشمیر کے مظفر آباد سے مخاطب ہوں، میں گلگت بلتستان کے اسکردو سمیت تمام اضلاع سے مخاطب ہوں، میں خیبر پختونخواہ کی بہادر عوام سے مخاطب ہوں، میں پنجاب کی وادیوں میں اور جنوبی پنجاب کے ساتھیوں سے مخاطب ہوں، میں صوبہ بلوچستان کے اپنے بھائیوں سے مخاطب ہوں، اور صوبہ سندھ کے جیالوں سے بھی بیک وقت مخاطب ہوں۔” چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ ملک کے ماضی اور مستقبل سے جُڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخ ساز اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ عوام نے ملک کو جمہوریت، 1973ء کا متفقہ آئین، اور پسماندہ طبقات کو معاشی طور مضبوط کرنے کا فلسفہ دیا۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نشاندھی کی کہ قائدِ عوام کے عدالتی قتل کے بعد شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آئین و جمہوریت کی بحالی اور اپنی عوام کے حقوق کے تحفظ کیلیئے 30 سال جدوجہد کرتے ہوئے دو آمروں کا مقابلہ کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اُنکے پرچم کو سربلند رکھا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹوکا پرچم تھام کر 18 ویں ترمیم کی شکل میں قائدِ عوام کے آئین کو بحال کرایا اور ‘روٹی، کپڑا اور مکان’ کے فلسفے کی روشنی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے انقلابی پروگرام کا آغاز کیا، جس سے ملک بھر کی غریب خواتین کی مالی معاونت ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے پہلے دور حکومت میں صوبہ خیبرپختونخوا کو اس کانام اور بلوچستان کو آغاز حقوق بلوچستان کی شکل میں صوبے کا حق دیا، جبکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرکے اور این ایف سی کے اجراء کی شکل میں بھی تمام صوبوں کو ان کے حقوق دیئے۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح پر افواج پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے بھارت کے 7 جنگی جہاز گِرا کر پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کردیا۔ انہوں نے بھارت سے جنگ کے پس منظر میں حکومتِ وقت اور اُس کی خارجہ پالیسی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف اِس وقت بھی دشمن سازشیں کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں دہشتگردی کے ذریعے دشمن پاکستان کو ڈی اسٹبلائیز کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب بھارت پاکستان کی سرحد پر میلی آنکھ سے دیکھ رہا ہے، تو دوسری جانب افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں تلخیاں بڑھ رہی ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے دہشتگردی کی نئی لہر اور دشمن ممالک کی سازشوں کا ایک ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کو اس رخ میں لے جانا ہوگا کہ دشمن ہمارے اندرونی سیاسی اختلافات سے فائدہ نہ اٹھاسکیں۔ “ہم واحد سیاسی جماعت ہیں، جو مثبت سیاست کرتے رہے ہیں۔ ہم سیاست کو سیاست کے دائرے میں رکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔” حالیہ 27 ویں آئینی ترمیم پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت ہمیشہ آئین سازی و قانون سازی میں اتفاق رائے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا قیام میثاق جمہوریت کا حصہ تھا ، جس پر اٹھارویں ترمیم میں عملدرآمد نہیں ہوسکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 27 ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت کا قیام اور اس میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دی گئی ہے جو پیپلز پارٹی کی بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے ججز پر اب بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کا عدلیہ کے متعلق اعتماد بحال رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ جو سیاسی عناصر پارلیمانی اقدام کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ان کیلئے میرا پیغام ہے کہ آئین سازی پارلیمان کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی جج یا عدلیہ کا اختیار نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کونسی ترمیم ہوسکتی ہے اور کونسی نہیں۔ “یہ اُن کا اختیار نہیں ہے، اور نہ ہم انہیں ایسی اجازت دیں گے۔” انہوں نے زور دیا کہ تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری کیلئے حکومت نے جب پیپلز پارٹی سے رجوع کیا تھا تو اس میں آئینی عدالت کے قیام اور آرٹیکل 243 میں ترمیم کے علاوہ دیگر پوائنٹس بھی شامل تھیں، جن میں ضلعی سطح پر میجسٹریسی نظام کی بحالی، تعلیمی نصاب کی تیاری کے اختیارات اور پاپولیشن کی روک تھام کے امور صوبوں سے واپس لینا، اور این ایف سی میں صوبوں کو حاصل آئینی تحفظ کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے این ایف سی کے حوالے سے صوبوں کو حاصل آئینی تحفظ کو بچا لیا اور اگر یہ ترمیم بھی منظور ہوتی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پنجاب کو ہوتا، پھر سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کو بھی ہوتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر حکومت نے این ایف سی میں صوبوں کو حاصل آئینی تحفظ کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور قوی امکان ہے کہ وہ آئندہ پھر اسی مجوزہ ترمیم کو سامنے لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کسی ترمیم یا اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جو وفاق کو کمزور کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت ساری فالٹ لائینز موجود ہیں جنہیں پیپلز پارٹی نے سیاسی، انتظامی اور معاشی اقدام کے ذریعے ایڈریس کیا اور وفاق کو مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے این ایف سی کے ذریعے علیحدگی پسند سیاست کو دفن کردیا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ این ایف سی اور 18 ویں ترمیم کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا یہ اقدام ایسا ہے کہ جیسے آگ سے کھیلنا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا وہ دیکھ رہی ہے کہ بھارتی وزیر دفاع سندھ کے بارے میں جارحانہ بیانات دے رہا ہے اور افغان سرحد پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جو ملکی دفاع کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھاکہ پاکستان کو جوہری قوت بنانے کے لیئے ہم ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی عملداری قائم کرنے کے ساتھ ساتھ “پرو ایکٹو سافٹ پاور” کا استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے کے لیے بھی اقدام کرنا ہوں گے۔




