امریکہ نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کر دی

حملے کا ارادہ نہیں احتیاطی طور پر فورس تعینات کررہے ہیں ،ٹرمپ
اسرائیل نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں ایران کے جواب سے بچنے کیلئے اقداما ت شروع کردئیے

اسلا م آباد:(جاگیرنیوز)امریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی ہے جس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں، اس سے خطے کا امن خطرے میں پڑگیاہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کے قریب احتیاطی طور پر فورس تعینات کررہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ائیر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہماری بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہے، بہت سے جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں اور ہم ایران کے قریب احتیاطی طور پر فورس تعینات کررہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا انہوں نے ایران پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، ایران کو کہا تھاکہ اگرپھانسیاں دیں تو کارروائی کریں گے، میری دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیاں منسوخ کردیں۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس فوجی نقل و حرکت کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا لازمی طور پر فوجی کارروائی کرے گا۔غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی مشرق وسطی کی جانب روانہ ہوچکے ہیں اور اس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کریں گے تاہم اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا جواب دے گا۔دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں ایران کے جواب سے بچنے کیلئے اقداما ت شروع کردئیے ہیں۔اسرائیلی فضائیہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران اسرائیل کو لڑائی میں شامل کر سکتا ہے تاہم یہ یقینی نہیں کہ ایران اسرائیل کو پہلا ہدف بنائیگا۔ایرانی میزائل حملوں سے بچنے کیلئے اسرائیلی ائیرلائنز نے طیاروں کو اسرائیل سے باہر منتقل کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث الرٹ ہیں جبکہ امریکا اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطہ بھی برقرار ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں