معروف صحافی و سرائیکی شاعر رازش لیاقت پوری انتقال کر گئے
امان اللہ ارشد کے شاگرد شاعر امرت جوگی بسترِ مرگ پر، حکومت اور فلاحی اداروں سے فوری طبی و مالی امداد کی اپیل
رپورٹ: عبدالرزاق چشتی
ملتان: معروف صحافی اور سرائیکی شاعر رازش لیاقت پوری انتقال کر گئے۔ اخبارات کی بندش اور بیروزگاری سے شدید پریشان رازش لیاقت پوری گردوں کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے، تاہم مناسب اور بروقت علاج نہ ہونے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی وفات نے سرائیکی صحافتی و ادبی حلقوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اہلِ قلم کا کہنا ہے کہ شدید بیماری کے باوجود رازش لیاقت پوری کو مؤثر علاج میسر نہ آ سکا، جو ہمارے سماجی، سرکاری اور فلاحی نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل معروف سرائیکی شاعر امان اللہ ارشد بھی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ وہ سرائیکی ادب کا ایک مضبوط اور توانا حوالہ تھے، جن کی وفات سے ادبی دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ اہلِ ادب کے مطابق امان اللہ ارشد کی بیماری کے دوران بھی کسی منظم سرکاری یا ادارہ جاتی سطح پر مؤثر معاونت دیکھنے میں نہیں آئی۔ادھر مرحوم امان اللہ ارشد کے شاگرد اور معروف سرائیکی شاعر امرت جوگی اس وقت شدید بیماری سے نبرد آزما ہیں اور عملی طور پر بسترِ مرگ پر ہیں۔ وہ بلڈ پریشر کے مریض ہیں، جبکہ ان کا واحد ذریعہ معاش مشاعرے پڑھنا تھا، مگر بیماری کے باعث اب وہ مشاعروں میں شرکت کرنے سے بھی معذور ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے گھر میں مکمل طور پر آمدن بند ہو چکی ہے۔امرت جوگی کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، رہائش کے سنگین مسائل در پیش ہیں اور مالی حالت اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ گھر میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے اور مناسب علاج بھی ممکن نہیں رہا۔ادبی، سماجی اور سرائیکی تنظیموں نے حکومتِ پنجاب، محکمہ ثقافت ، بیت المال، زکوٰۃ و عشر فنڈ، مخیر حضرات اور تمام فلاحی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شاعر امرت جوگی کے علاج کیلئے فوری مالی امداد فراہم کی جائے، ہنگامی بنیادوں پر ان کا مکمل طبی علاج کرایا جائے اور ان کے خاندان کی کفالت کیلئے فوری نقد امداد کا اعلان کیا جائے۔اہلِ قلم کا کہنا ہے کہ اگر آج بھی امرت جوگی کو تنہا چھوڑ دیا گیا تو سرائیکی ادب ایک اور توانا آواز سے محروم ہو سکتا ہے، اور یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے، ریاستی اداروں اور فلاحی نظام کی ناکامی کا ثبوت ہوگا۔




