سیکٹرز ایف 14-15:ریاض حسین پیر زاده نے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھ دیا
زمین مالکان اور الاٹیز کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے، جائز معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی اور منصوبے کو بروقت مکمل کیا جائے گا، وفاقی وزیر
اسلام آباد:(جاگیرنیوز ) وفاقی حکومت کی ہاؤسنگ پالیسی کے تحت دار الحکومت کے اہم سیکٹرز 14-F اور 15-F میں انفراسٹرکچر کی تعمیراور ترقیاتی کاموں کاسنگ بنیاد رکھنے کی پروقار تقریب پیر کو ہوئی. وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیر زادہ نے اس اہم منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ۔ اس موقع پرایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا،جس میں وفاقی وزیر انجم عقیل خان، ملک ابرار احمد ایم این اے سمیت وفاقی سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیپٹن ریٹائرڈ محمدمحمود، ڈائریکٹر جنرل فیڈرل گور نمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کیپٹن ریٹائرڈ محمد ظفر اقبال اور اتھارٹی کے دیگر اعلی حکام ڈائریکٹر کے علاوہ الاٹیز بھی موجود تھے ۔اس موقع پر بطور مہمان خصوصی وفاقی وزیر ہاؤسنگ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، سرکاری رہائشی منصوبہ جات کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے ، اسلام آباد کے سیکٹر ایف-14 اور ایف-15 میں ترقیاتی کاموں کا باقاعدہ آغاز اسی عزم کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ 2015ء میں شروع ہوا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار رہا، تاہم اب اسے دوبارہ مکمل رفتار سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ہاؤسنگ منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور ترقیاتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی کے تمام سیکٹرز دوبارہ ٹریک پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔میاں ریاض حسین پیرزادہ نے یقین دہانی کرائی کہ زمین مالکان اور الاٹیز کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے، جائز معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی اور منصوبے کو بروقت مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت ترقیاتی کام نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن مکمل کرے گا اور ادارے کا تعاون قابلِ تحسین ہے
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال نے کہا کہ آج کےدن اس ادارے کی تاریخ میں ایک سنہرے باب کا اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ آج ہم تقریبا 11 ہزار خاندانوں کی امیدوں کے چراغ روشن کرنے جا رہے ہیں۔ جو گزشتہ 10 سال سے اس دن کےانتظار میں تھے۔اور میں اپنی تمام قانونی ٹیم اور ادارے کے تمام افسران کو بھی شاباش دینا چاہتا ہوں جنہوں نے محنت کر کے اس عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ہمارا وژن صرف پلاٹس کی الاٹمنٹ تک محدود نہیں بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق ایک منظم رہائشی کمیونٹی کی تشکیل دینا ہے. انہوں نے کہا کہ میں اپنے الاٹیز کو بھی یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس مرحلے کو پوری ایمانداری اور شفافیت کے ساتھ قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہ کر انشاء اللہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کریں گے،ہمیں اس دن اطمینان ہو گا۔جس دن ان سیکٹرزمیں ہمارے الاٹیز آ کر آباد ہوں گے اور اپنے خوابوں کے گھر کو حقیقت میں دیکھ سکیں گے
اس موقع پرسیکرٹری ہاؤسنگ محمد محمود نے کہاکہ زمین داروں کو ان کے کلیمز کی مکمل ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی ان کے لیے میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے معزز اراکین اسمبلی کی وساطت سے ان کے تحفظات کا کماحقہ ازالہ کیاجائے گا ۔انہوں نے مزید کہاکہ الاٹیز بھی اپنے واجبات کی فی الفور ادائیگی کریں بصورت دیگر قوانین کے تحت نادہندگان کے پلاٹ منسوخ کیے جاسکتے ہیں انہوں نے الاٹیز سے اپیل کی کہ وہ اقساط کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ ترقیاتی کاموں کی رفتار برقرار رکھی جا سکے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام رکے ہوئے منصوبے مرحلہ وار دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔منصوبے کی تفصیلات میں بتایاگیا کہ یہ میگا پراجیکٹ مجموعی طور پر 28.2 ارب روپے کی خطیر رقم سے مکمل کیا جائے گا۔ ترقیاتی کاموں کا کنٹریکٹ نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (NLC) کو تفویض کیا گیا ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 19.58 ارب روپے ہے۔10,875 کنال پر محیط اس منصوبے میں مجموعی طور پر 6,800 رہائشی پلاٹس تیار کیے جائیں گے۔سیکٹر F-14 میں کیٹیگری I سے کیٹیگری III تک کے 4,825 پلاٹس شامل ہیں۔
سیکٹر F-15 میں مختلف کیٹیگریز کے 1,975 پلاٹس پر ترقیاتی کام کیا جائے گا۔اس منصوبے کے دائرہ کار میں عالمی معیار کے انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے، جس میں پختہ سڑکیں، سیوریج سسٹم، واٹر سپلائی، زیرِ زمین بجلی کی فراہمی، اسٹریٹ لائٹس، گیس نیٹ ورک اور ٹیلی کمیونیکیشن کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔یاد رہے کہ اس منصوبے کی حتمی منظوری اکتوبر 2025ء میں
پی ڈبلیو ڈی کے اجلاس میں دی گئی تھی، جس کے بعد تمام قانونی اور انتظامی مراحل کی تکمیل کے بعد اب اس کا عملی آغاز کیا گیا ہے ۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں رہائشی ضروریات کو پورا کرنے اور وفاقی ملازمین سمیت دیگر شہریوں کو معیاری طرزِ زندگی فراہم کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔




