اٹھال چوک کی اطراف پبلک ٹرانسپورٹ کے مین اسٹاپ پر مبینہ طور پرغیرقانونی وصولیاں ؟

سڑک پرسواریاں بٹھانے والی گاڑیوں کو دانستہ روکنے اور بدسلوکی کی شکایات عام ہیں اگر سرکاری سڑک پر شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کو مبینہ طور پر روکے جانے کے واقعات پر کارروائی نہ ہو تو قانون کے نفاذ سے متعلق خدشات اور انتظامی نگرانی پر سوالات پیدا ہوتے ہیں

رپورٹ: نمائندخصوصی

اسلام آباد (جاگیر نیوز )اسلام آباد کے نواحی علاقے بھارہ کہو اٹھال چوک کے دونوں اطراف پبلک ٹرانسپورٹ کے مین اسٹاپس کے حوالے سے شہریوں اور ٹرانسپورٹرز نے مبینہ غیرقانونی وصولیوں اور بعض عناصر کی اجارہ داری کی شکایات کی ہیں۔ شکایت کنندگان کے مطابق چند افراد سرکاری سڑک پر قائم دونوں اسٹاپس پر راستے کی سواریاں اٹھانے کے لیے رکنے والی پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر گاڑیوں کو مبینہ طور پر روکتے ہیں جو مری آزاد کشمیر گلیات کو آتی جاتی ہیں اور متنبہ کیا کہ کہ اطراف سٹاپ ہیں اڈے نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی نجی گاڑی راستے کی سواری بٹھائے یا کسی مسافر کو لفٹ دے تو اسے بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ ایک شہری نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز وہ اپنی گاڑی میں سوار تھا کہ چند افراد نے مبینہ طور پر گاڑی کی چابی نکال لی اور اس سے گالم گلوچ کی۔ شہری کے مطابق ایسے واقعات شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور ان سے سرکاری سڑک و عوامی گزرگاہ کے استعمال سے متعلق انتظامی نگرانی پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔شہری کا کہنا تھا کہ اٹھال چوک سے چند فرلانگ کے فاصلے پر دو تھانے موجود ہیں لوگوں نے متعدد بار 15 اور تھانہ میں شکایات کی ہیں اور اس معاملے پر متعدد لڑائی جھگڑے بھی ہوچکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوپارہی ہے لگتا ہے کہ یہ مافیا ریاست سے بھی زیادہ طاقتور ہے ۔

مبینہ طور پرلگتا ہے کہ یہ تھانے بھتہ خوروں کی سرپرستی کررہے ہیں، تاہم اگر سرکاری سڑک پر شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کو مبینہ طور پر روکے جانے کے واقعات پر کارروائی نہ ہو تو قانون کے نفاذ سے متعلق خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر موصلات عبدالعلیم خان اور چیئرمین این ایچ اے چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ اٹھال چوک کے دونوں مین اسٹاپس سے متعلق شکایات کا نوٹس لے کر مبینہ غیرقانونی وصولیوں لوٹ مار اور شہریوں کو ہراساں کیے جانے کے الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔شہری نے تجویز دی کہ دونوں مین اسٹاپس کو مبینہ غیرقانونی قبضے اور اجارہ داری سے پاک کرکے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے باقاعدہ نظام وضع کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر حکومت ان مقامات سے ریونیو حاصل کرنا چاہتی ہے تو دونوں اسٹاپس کو شفاف طریقہ کار کے تحت سالانہ بنیادوں پر نیلام کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے غیرقانونی وصولیوں کے بجائے سرکاری خزانے کے لیے باقاعدہ آمدن کا ذریعہ بن سکتا ہے اور ٹرانسپورٹرز و شہریوں کو بھی واضح قواعد کے تحت سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں