پاکستان تحریک انصاف تحریک طالبان پاکستان کی سہولت کار ہے،سینیٹر زاہد خان

پاکستان تحریک انصاف اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان مبینہ روابط کے معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئے، سینیٹر زاہد خان

خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پولیس صوبے کا فخر ہے،ثمر ہارون بلور

رپورٹ:عبدالملک

اسلام آباد:(جاگیرنیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف تحریک طالبان پاکستان کی سہولت کار ہے،پاکستان تحریک انصاف اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان مبینہ روابط کے معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیے۔
تفصیلات کے مطاطق نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ صوبائی حکومت کو اپنی تمام تر توجہ امن و امان کی بحالی پر مرکوز کرنی چاہیے، افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور صوبائی حکومت کو اس معاملے پر واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، پولیس اور سکیورٹی فورسز کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا، انہوں نے ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلوراورپارٹی رہنماء مرتضیٰ جاوید عباسی کے ہمراہ ایک مشترکہ پر یس کانفرنس میں کیا۔ زاہد خان نے مزیدکہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے استحکام پر توجہ دینی چاہیے،ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پولیس صوبے کا فخر ہے، صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس سے متعلق قانون میں ہنگامی طور پر ترامیم کا مقصد اور طریقہ کار قابلِ سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پولیس کو مزید اختیارات، وسائل اور سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کر سکے۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے ضلع کے ہسپتال سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مسائل کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے اور ریاستی اداروں کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے حالیہ لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ان سرگرمیوں کو بھرپور پذیرائی نہیں دی۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوام امن، استحکام اور معاشی ترقی چاہتے ہیں اور کسی بھی ایسی سرگرمی کے حق میں نہیں جو صوبے میں مزید بے یقینی پیدا کرے۔ن لیگی رہنماؤں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کو مکمل سیاسی، انتظامی اور مالی معاونت فراہم کرنا ہوگی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے نیٹ ورک، مبینہ سہولت کاری اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق معاملات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں