موسمیاتی اقدامات کو محض ماحولیاتی ذمہ داری تک محدود نہیں کیا جا سکتا،سینیٹر وقار مہدی

موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقوں کے لیے ایسے مالیاتی انتظامات ناگزیر ہیں جو موسمیاتی اثرات، ماحولیاتی ذمہ داریوں اور مالیاتی استعداد میں موجود فرق کو مدنظر رکھیں

منیلا:( جاگیر نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی نےکہاکہ موسمیاتی اقدامات کو محض ماحولیاتی ذمہ داری تک محدود نہیں کیا جا سکتا، یہ ترقی، معاشی استحکام، سماجی انصاف اور انسانی سلامتی سے بھی براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایسے مالیاتی نظام کی تشکیل پر زور دیا جو بدلتے ہوئے موسمیاتی خطرات کے مطابق وسائل کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائے اور موسمیاتی خطرات سے دوچار طبقات کو ترقی کے عمل میں پیچھے نہ رہنے دے۔ سینیٹر وقار مہدی نےموسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی انحطاط، پانی کے عدم تحفظ اور قدرتی آفات کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے مالیاتی و انتظامی دباؤ سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی تقسیم اور منتقلی کے نظام میں اصلاحات پر زور دیا ہے۔ فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں فورم آف فیڈریشن کے تحت ”ابھرتے ہوئے مسائل، خودمختاری اور مؤثر نتائج کا حصول“ کے موضوع پر منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقوں کے لیے ایسے مالیاتی انتظامات ناگزیر ہیں جو موسمیاتی اثرات، ماحولیاتی ذمہ داریوں اور مالیاتی استعداد میں موجود فرق کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان میں تباہ کن سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور خشک سالی کے تجربات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر موسمیاتی فنانس تک زیادہ، بروقت اور مؤثر رسائی یقینی بنائی جائے۔سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ موسمیاتی موافقت، ماحولیاتی لچک، جدید ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے مؤثر معاونت فراہم کی جائے۔ انہوں نے شفاف اور قابلِ پیش گوئی موسمیاتی فنانسنگ، موسمیاتی بجٹ ٹیگنگ کو مؤثر بنانے، اخراجات کی نگرانی اور پارلیمانی احتساب کے مضبوط نظام پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بنیادوں پر مالیاتی منتقلی، مخصوص و مساوی گرانٹس اور کارکردگی کی بنیاد پر مالی اعانت کے طریقۂ کار ماحول دوست طرزِ حکمرانی کو فروغ دے سکتے ہیں، جبکہ جنگلات، آبی ذخائر، حیاتیاتی تنوع اور دیگر ماحولیاتی اثاثوں کے تحفظ سے حاصل ہونے والے وسیع تر فوائد کو بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ سینیٹر وقار مہدی نے واضح کیا کہ موسمیاتی اقدامات کو محض ماحولیاتی ذمہ داری تک محدود نہیں کیا جا سکتا؛ یہ ترقی، معاشی استحکام، سماجی انصاف اور انسانی سلامتی سے بھی براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایسے مالیاتی نظام کی تشکیل پر زور دیا جو بدلتے ہوئے موسمیاتی خطرات کے مطابق وسائل کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائے اور موسمیاتی خطرات سے دوچار طبقات کو ترقی کے عمل میں پیچھے نہ رہنے دے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں