لانگ مارچ ملتوی کی درخواست نہیں کی: سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی،وفاقی وزیر داخلہ
ہمارا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی تھا، ہم چاہتے تھے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر ہمارے ساتھ کھڑی ہو،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
میں علامہ ناصر عباس اسد قیصر ، بیرسٹر گوہر ، عامر ڈوگر کا شکریہ ادا کروں گا، انھوں نے نیک نیت کے ساتھ مذاکرات کیے، بدقسمتی سے ان کی پارٹی نے خاص طورپر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی
اگر ہمیں اندازہ ہوتا کہ اپوزیشن کمیٹی میں کوئی ایسا بندہ موجود نہیں ہے جس کے پاس کے پی کے گورنمنٹ کا بندہ موجود نہیں ہے تو مذاکرات نہ کرتے، ہم کہہ رہے تھے کہ کے پی کے میں دہشت گردی میں ایک ساتھ اکھٹے کھڑے ہوں،وفاقی وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس
رپورٹ:بیوروچیف
لاہور:(جاگیرنیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ہم نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی تھا، ہم چاہتے تھے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر ہمارے ساتھ کھڑی ہو۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ حکومت کے وزراء فوج کے خلاف بیانات دے رہے ہیں شہداء کے جنازوں میں نہیں آرہے.انہوں نے کہا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے وزیر اعظم اور صدر پاکستان کو رات کی صورتحال سے آگاہ کیا، میں علامہ ناصر عباس اسد قیصر ، بیرسٹر گوہر ، عامر ڈوگر کا شکریہ ادا کروں گا، انھوں نے نیک نیت کے ساتھ مذاکرات کیے، بدقسمتی سے ان کی پارٹی نے خاص طورپر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ان کا کہنا تھا کہ ون ون صورتحال میں معاملات آگئے تھے، میں صدر پاکستان کو فائنل ڈرافٹ دکھا کر آیا تو پتہ چلا وزیر اعلی کے پی کے نے تبدیلی کی، ایک ایک کرکے ایشو کو ریزالو کیا گیا تھا، واپس آیا تو پتہ چلا کہ ڈرافٹ میں کافی تبدیلیوں کا کہا گیا ہے، چار مرتبہ ڈرافٹ کو تبدیل کیا گیا، راجہ ناصر عباس اور دیگر کو خراب کیا گیا۔محسن نقوی نے کہا کہ اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو خود مذاکرات میں آجاتے، پرسوں میں نے بیرسٹر گوہر سے کہا تھا سہیل آفریدی اپنا کوئی نمائندہ بھیج دے، میں نے کہا کہ کے پی کے میں دہشت گردی کے حوالے مشکلات آرہی ہیں، میں نے کہا کہ اس حوالے سے ان سے بات کرکے آجائیں، وہ لوگ گئے وزیر اعلیٰ کے پی کے سے مذاکرات کرکے واپس آئے، ہماری طرف سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا نہیں کہا گیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ان سے کہا کہ لانگ مارچ ملتوی کردیں، حکومتی اراکین نے نیک نیتی کے ساتھ کوشش کی مسئلہ حل ہو، حکومتی ٹیم کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، اگر ہمیں اندازہ ہوتا کہ اپوزیشن کمیٹی میں کوئی ایسا بندہ موجود نہیں ہے جس کے پاس کے پی کے گورنمنٹ کا بندہ موجود نہیں ہے تو مذاکرات نہ کرتے، ہم کہہ رہے تھے کہ کے پی کے میں دہشت گردی میں ایک ساتھ اکھٹے کھڑے ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ حکومت کے وزراء فوج کے خلاف بیانات دے رہے ہیں شہداء کے جنازوں میں نہیں آرہے، اگر یہ کہے گے کہ آپریشن فوج کا ہوگا تو اس میں گن کون سی استعمال ہونی ہے گولی کون سی استعمال ہونی ہے، وزیر اعلی کے پی کے نو بج کر پندرہ منٹ میں ایکٹیو ہوجاتے ہیں ایک دفعہ تبدیلی کہتے ہیں دوسری مرتبہ تبدیلی کہتے ہیں، وہ یہ کیوں کہہ رہے تھے ان کا مقصد کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہاں پر ان کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے انھوں نے کہا کہ ہم اس پر بالکل بات نہیں کریں گے۔
قبل ازیں محسن نقوی نے وزیر اعظم سے لاہور میں ملاقات کی، ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد محسن نقوی کے گھر پہنچے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسری ملاقات ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی پریس کانفرنس کریں گے۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری سے بھی رابطہ کیا۔ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔محسن نقوی کی پشاور آمد، گورنر سے ملاقاتدریں اثنا وزیر داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچے جہاں انہوں ںے گورنر ہاؤس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔




