ہری پور میں ہزارہ کنونشن، صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ مزید زور پکڑ گیا
ملک میں آبادی بڑھ چکی ہے اور موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کافی نہیں، نئے صوبوں کا قیام انتظامی ضرورت بن چکا ہے,وفاقی وزیر سردار محمدیوسف
صوبہ ہزارہ کے قیام کا مقصد کسی علاقے یا جماعت کے خلاف کھڑا ہونا نہیں بلکہ عوام کو ان کے حقوق، وسائل اور بہتر انتظامی نظام کی فراہمی ہے، سینیٹر طلحہ محمود
صوبہ ہزارہ ہزارہ کے عوام کی پہچان اور حق ہے اور اس مطالبے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، مرتضیٰ جاوید عباس
پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی ضرورت ہے، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قوم کو متحد ہونا ہوگا
رپورٹ :سٹی رپورٹر
ہری پور (جاگیر نیوز) صوبہ ہزارہ تحریک کے رہنماء و سینیٹر طلحہ محمود کے زیر اہتمام ہری پور میں عظیم الشان ہزارہ کنونشن منعقد ہوا، جس میں چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک و وفاقی وزیر سردار محمد یوسف، سینیٹر طلحہ محمود، رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار صابر شاہ، سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی، سابق صوبائی وزیر قاضی اسد سمیت ہزارہ ڈویژن کے سیاسی، سماجی رہنماؤں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک و وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کا قیام ہزارہ کے عوام کا جائز اور آئینی حق ہے، تحریک کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے نوجوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ صوبہ ہزارہ کی تحریک 2010ء سے جاری ہے اور آج بھی اسی جذبے اور عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ محبت اور وفاداری کا ثبوت دیا ہے، ہزارہ وہ خطہ ہے جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق میں تاریخی کردار ادا کیا۔ آج بھی ہزارہ سے کوئی ایسی آواز نہیں اٹھی جو پاکستان مخالف ہو، یہاں کے عوام محب وطن اور پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ ملک میں آبادی بڑھ چکی ہے اور موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کافی نہیں، نئے صوبوں کا قیام انتظامی ضرورت بن چکا ہے۔ صوبہ ہزارہ کے قیام سے نہ صرف ہزارہ کے عوام کے مسائل حل ہوں گے بلکہ علاقے کے وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ تحریک کسی سیاسی جماعت کی تحریک نہیں بلکہ عوامی تحریک ہے، تمام سیاسی جماعتیں اپنی جگہ محترم ہیں، تاہم صوبہ ہزارہ کے قیام کے مطالبے پر تمام جماعتوں اور قیادت کو متحد ہونا ہوگا۔ جو بھی آواز صوبہ ہزارہ کے حق میں اٹھائے گی ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے قومی اسمبلی اور دیگر فورمز پر آواز بلند کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی بھرپور انداز میں یہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کو ہزارہ کے مختلف علاقوں کے بعد ملک کے دیگر حصوں تک بھی لے کر جائیں گے اور اسلام آباد، کراچی سمیت دیگر شہروں میں بھی کنونشنز منعقد کیے جائیں گے۔سینیٹر طلحہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک کو شروع ہوئے سولہ برس گزر چکے ہیں اور اب یہ تحریک صرف ہزارہ تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث جاری ہے۔ نئے صوبے پاکستان کی بہتری اور مضبوط انتظامی نظام کی علامت ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کی ناکامی کے باعث عوام معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، لوگ روزگار اور بنیادی سہولیات کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہزارہ میں قدرتی اور معاشی وسائل کی کمی نہیں، یہاں بجلی کی پیداوار، سی پیک اور دیگر منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم ان وسائل سے سب سے پہلے مقامی عوام کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کا مقصد کسی علاقے یا جماعت کے خلاف کھڑا ہونا نہیں بلکہ عوام کو ان کے حقوق، وسائل اور بہتر انتظامی نظام کی فراہمی ہے۔ ہزارہ کے عوام متحد ہیں اور پاکستان کی مضبوطی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان نے کہا کہ ہزارہ کے عوام بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے آج بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر صوبہ ہزارہ قائم ہو تو مقامی مسائل کے حل کے لیے عوام کو بار بار سیاسی دروازوں پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ کے لوگ ملک کے مختلف علاقوں میں جا کر روزگار کماتے ہیں لیکن اپنے خاندانوں کو بھی وطن کے اس خطے سے جوڑے رکھتے ہیں، جو اس علاقے سے محبت کا ثبوت ہے۔ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے ہم متحد ہیں اور قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے اس مطالبے کو ہر فورم پر اجاگر کریں گے۔بابر نواز خان نے کہا کہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی ضرورت ہے، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کریں۔سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہزارہ کے عوام، نوجوانوں، خواتین اور مختلف مکاتب فکر نے جس اتحاد اور جذبے کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے جن لوگوں نے قربانیاں دیں، ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ صوبہ ہزارہ ہزارہ کے عوام کی پہچان اور حق ہے اور اس مطالبے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ملک میں اگر نئے صوبے بنتے ہیں اور ہزارہ کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے معاملے پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ہزارہ کے عوام کا ساتھ دیا جائے۔کنونشن کے دیگر مقررین نے بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ کے عوام نے طویل عرصے سے اس مطالبے کے لیے جدوجہد کی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اسے عملی شکل دی جائے۔کنونشن کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی جبکہ شرکاء نے پاکستان زندہ باد اور صوبہ ہزارہ کے حق میں پرجوش نعرے بھی لگائے۔




