اسلام آباد: آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ کااحتجاجی مظاہرے کا اعلان
جمعرات کو آبپارہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اورسہ پہر 3 بجے سے شام 5 بجے تک دکانیں بند رکھی جائیں گی،مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی جائے گی
تاجروں کو دفاتر کے چکر لگانے، نوٹسز اور مبینہ ہراسانی سے نجات دلائی جائے،ملک میں کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں ہے اور ہر مسئلے کا حل صرف ’’ڈنڈا‘‘ بنا دیا گیا ہے، اجمل بلوچ کا ایف بی آر کے نظام پر بھی تحفظات کا اظہار
ایف بی آر سمیت تمام سرکاری اداروں میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور کاروباری طبقے کو منصفانہ، شفاف اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے، اگر شاپنگ بیگز پر پابندی عائد ہے تو پہلے ان کی تیاری کرنے والی فیکٹریاں بند کی جائیں اور تاجروں اور عوام کو متبادل فراہم کیا جائے
مطالبات پورے نہ ہوئے تو پورا اسلام آباد بند کر کےوزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کرینگے، اجمل بلوچ کی تاجررہنماؤں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس
سٹی رپورٹر
اسلام آباد (جاگیرنیوز) آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ نے مہنگی بجلی، ٹیکسز اور انتظامی اقدامات پر شدید تنقیدکرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کو آبپارہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اورسہ پہر 3 بجے سے شام 5 بجے تک دکانیں بند رکھی جائیں گی، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی جائے گی ،انہوں نے ایف بی آر کے نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو دفاتر کے چکر لگانے، نوٹسز اور مبینہ ہراسانی سے نجات دلائی جائے،ملک میں کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں ہے اور ہر مسئلے کا حل صرف ’’ڈنڈا‘‘ بنا دیا گیا ہے، مقامی تاجروں کے حقیقی مسائل سنے جائیں، ایف بی آر سمیت تمام سرکاری اداروں میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور کاروباری طبقے کو منصفانہ، شفاف اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے، اگر شاپنگ بیگز پر پابندی عائد ہے تو پہلے ان کی تیاری کرنے والی فیکٹریاں بند کی جائیں اور تاجروں اور عوام کو متبادل فراہم کیا جائے، بات نہ سنی گئی تو پورا اسلام آباد بند کر کے وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا جائے گا،اجمل بلوچ نے ان خیالات کا اظہاراسلام آباد کی تمام مارکیٹوں کےتاجر راہنماؤں خالد چوہدری، سید الطاف حسین شاہ، اظہر آزاد، کامران کاکا خیل، راجہ ذوالفقار، سید عامر شاہ، مظفر ہاشمی، نثار لنگاہ، عرفان چوہدری، ظفر گجر، عجب گل، وسیم عباسی، جمیل قریشی، ڈاکٹر سعید، محمود حسین، سناور خان، محمد حسین، جواد گجر، ظہور اعوان، عبداللہ اسماعیل،و دیگر کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،اجمل بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ ماحول کو صاف رکھنا چاہیے، آلودگی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ایسی اشیاء کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں،شاپر بیگ اگر غیر قانونی ہے تو یہ بن کہاں رہا ہے؟ یہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلے کی جڑ پر ہاتھ ڈالیں، نہ کہ دکاندار کے ہاتھ سے شاپر چھین کر اسے مجرم بنا دیں۔ ایک عام دکاندار کوئی کرمنل ،دہشت گرد ، سمگلر یا کوئی بدمعاش نہیں۔ حکومت شاپر کا متبادل بھی تو دیں پھر تاجر اور عوام بھی اس پالیسی پر عمل کریں گے۔تاجر کی تذلیل نہ کی جائے، اسے ہراساں نہ کیا جائے، ہم حکومت کے ساتھ مل کر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تاکہ ماحول بھی بچائیں اور کاروبار بھی چلائیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت تاجروں کو اعتماد میں لے، متبادل فراہم کرے، صنعتوں کو پابند کرے، اسمگلنگ روکے اور پھر قانون پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ تاجر ماحول دشمن نہیں ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ اسلام آباد صاف، خوبصورت اور آلودگی سے پاک شہر ہو۔ لیکن ماحول کی حفاظت کے نام پر تاجر کی عزتِ نفس مجروح کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاپر بیگ کا قابلِ عمل اور سستا متبادل فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب کیا جائے، غیر قانونی شاپر بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی جائے،اسمگلنگ کے راستے بند کیے جائیں اور غیر قانونی سپلائی کو روکا ،تاجروں کو ہراساں، بے عزت اور تذلیل کرنے کے بجائے انہیں اعتماد میں لیا جائے،قانون پر عملدرآمد کے لیے واضح، یکساں اور باعزت طریقہ کار بنایا جائے۔ ڈنڈا مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ ملک بھر میں تاجر اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ٹیکسز، جرمانوں اور انتظامی اقدامات کا بوجھ بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو پہلے عوام کے لیے بنیادی سہولیات یقینی بنانی چاہئیں اور اس کے بعد قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہیے۔اجمل بلوچ نے زور دیا کہ ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور غریب کے خلاف فوری کارروائی جبکہ بااثر افراد کو رعایت ملنے کا تاثر ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اور سخت سزاؤں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی نے ملکی معیشت اور اداروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے ایف بی آر کے نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو دفاتر کے چکر لگانے، نوٹسز اور مبینہ ہراسانی سے نجات دلائی جائے۔اجمل بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت تاجروں سے ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے تو پہلے انہیں کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے، جس میں سستی بجلی، سکیورٹی، پارکنگ اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔ ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت تاجر اپنے موبائل فون کے ذریعے خود ٹیکس ادا کر سکیں اور انہیں پہلے سے معلوم ہو کہ انہیں کتنا ٹیکس ادا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ جب دوکاندار پہلے ہی کاروباری مشکلات کا شکار ہوں تو ان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا مسائل میں اضافے کے مترادف ہے دوکاندار کو مجرم بنانے کے بجائے اصل مسئلہ ختم کریں۔ ڈنڈا چھوڑیں، راستہ نکالیں۔ ہم حکومت کے ساتھ ہیں، لیکن تاجر کی عزت، روزگار اور کاروبار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ کل بروز جمعرات 8 اکتوبر سہہ پہر تین بجے سے شام5 بجے تک کاروبار بند رہے گا اور تمام تاجر اپنی اپنی مارکیٹوں کے باہر احتجاج کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی بات نہ سنی گئی تو پورا اسلام آباد بند کر کے وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا جائے گا۔




