میرے بیٹے کی آنکھ ضائع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے انصاف فراہم کیا جائے ، والد عبدالقدیر
نامعلوم فون نمبرز سے کالز کروا کر راضی نامہ کرنے بصورت دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جانے لگیں
پولیس کی وردی میں چھپی کالی بھیڑوں کیخلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے ، والد عبدالقدیر کی پر یس کانفرنس
رپورٹ: بیورو چیف
راولپنڈی( ) رینج روڈ کے رہائشی متاثرہ بچے کے والد شہری عبدالقدیر کو مختلف نامعلوم فون نمبرز سے کالز کروا کر راضی نامہ کرنے بصورت دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ پولیس انصاف فراہم کرنے کی بجائے انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے لگی، شفاف تفتیش کرنے کی بجائے ڈی ایس پی بھی ملزمان سے مل گیااور تفتیش میں شفافیت کی بجائے تصفیہ کیلئے الٹا مدعی پر ہی دبائو ڈالنے لگا۔ تفصیلات کے مطابق رینج روڈ کے رہائشی عبدالقدیر نے پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ تھانہ ریس کورس کے علاقے رینج روڈ پر 10اگست کو رات 9بجے کے قریب جھگڑا ہو 11اگست کو آپریشن کیا گیا جس میں میرے بیٹے کی آنکھ ضائع ہو گئی اسے کچھ نہیں دکھائی دیتا جبکہ ہسپتال سے میڈیکل بارہا کروایا مگر ایس ایچ او تھانہ ریس کورس لقمان جاوید جٹ نہ عدالت میں ریکارڈ پیش کر رہا ہے پہلے ایک راضی نامہ خود کروایا بعد ازاں مخالف پارٹی کی نوٹوں کی چمک سے فیض یاب ہو کر اس نے خود ہی ختم کیا اور اب راضی نامہ کیلئے دبائو ڈال رہا ہے ملزم کی پشت پناہی کرکے کیس کو خراب کرنے کی مبینہ کوشش کرر ہا ہے ۔عبدالقدیر نے میڈیا کو بتایا کہ تھانہ ریس کورس کا ایس ایچ او لقمان جاوید جٹ ان سے بھی 5 لاکھ روپے طلب کر رہا تھا لیکن میں نے کہا کہ میرے پاس رقم نہیں ہے اور مجھے بس حق و سچ پر رہتے ہوئے انصاف چاہیے میڈیکل رپورٹس میں واضح ہے کہ میرے بیٹے کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہو چکی ہے اور اس کا علاج ممکن نہیں۔ عبدالقدیر نے بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ سے بارہا موبائل پر کال کروا کر انہیں مختلف حیلے بہانوں سے ذہنی طور پر ہراساں کر رہا ہے۔ عبدالقدیر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او لقمان جاوید جٹ نے ان سے مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے رشوت بھی طلب کی ۔ میں 2 مرتبہ سی پی او صاحب کے پاس پیش ہوا اور انہوں نے ڈی ایس پی کینٹ عبدالستار خان کوہدایت کی کہ میرے کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں لیکن انکوائری آفیسرڈی ایس پی کینٹ عبدالستار خان انصاف کے تقاضوں کے مطابق انکوائری کی بجائے بھرپور کوشش کرتے رہے کہ دونوں فریقین باہمی صلح صفائی کر لیں۔ مدعی مقدمہ نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ چونکہ ان کے بیٹے کی آنکھ ہمیشہ کیلئے ضائع ہو گئی ہے جس کی میڈیکل رپورٹس بھی موجود ہیں اسلئے انہیں انصاف فراہم کر کے ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے ایک بار پھر وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز ‘آئی جی پنجاب، سی پی او، آر پی او سے مطالبہ کیا ہے کہ میرے بیٹے کی آنکھ ضائع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے مجھے انصاف فراہم کیا جائے اور پولیس کی وردی میں چھپی ان کالی بھیڑوں کیخلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
ََََََََََََََََََََََََََََََََََََِِِِِِِِِِِِِِِِ




