پی ایف ایف نے اسلام آباد میں خواتین لیگ اور خواتین لیگ جونیئرز کے آغاز کا اعلان کر دیا

یہ اقدام پاکستان میں خواتین کے فٹ بال کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کرنے کی جانب اہم قدم ہے، صدرپی ایف ایف سید محسن گیلانی

لیگز کو حال ہی میں متعارف کرائی گئی پی ایف ایف ویمنز فٹ بال ڈیویلپمنٹ اسٹریٹجی پر عملی پیش رفت کا پہلا قدم ہے، میژگان اورکزئی، سربراہ پی ایف ایف ویمنز ڈیپارٹمنٹ

امل خان نیازی پی ایف ایف ویمنز فٹ بال مینیجر اور چیف آرگنائزر، نے لیگز میں کلبوں کی شرکت اور مسلسل مسابقتی مواقع کی اہمیت پر زور دیا

سپورٹس رپورٹر

اسلام آباد: (جاگیر نیوز)پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف)آج (ہفتہ) 10 اکتوبر سے شی لیگ اور شی لیگ جونیئرز کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ ان لیگز کا مقصد لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو فٹ بال میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار، مسابقتی تجربہ حاصل کرنے اور پاکستان کی قومی ٹیموں کی نمائندگی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔دونوں لیگز پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیموں کے فارمیٹ میں کھیلی جائیں گی، جس سے کھلاڑیوں کو گیند کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے، تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور مسابقتی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع ملیں گے۔ اس اقدام کے ذریعے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی نشاندہی اور ترقی میں بھی مدد ملے گی، بالخصوص 2027 ءمیں شیڈول فیفا انڈر 15 گرلز ورلڈ کپ اینڈ فیسٹیول جیسے بین الاقوامی یوتھ مقابلوں کے لیے۔
شی سے مراد Sports, Hope and Empowerment (کھیل، امید اور بااختیار بنانا) ہے۔ یہی اصول اس اقدام کی بنیاد ہیں، جس کا مقصد فٹ بال کے ذریعے لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے مواقع کو وسعت دینا ہے۔
پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں خواتین کے فٹ بال کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا، ”خواتین کے فٹ بال کی ترقی کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، بامعنی مقابلوں اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے واضح راستوں کی ضرورت ہے۔ شی لیگ اور شی لیگ جونیئرز اسی کوشش کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے ذریعے لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے، مسابقتی ماحول میں خود کو آزمانے اور پاکستان کی نمائندگی کا خواب دیکھنے کا موقع ملے گا۔ ہمارا مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہے جہاں ٹیلنٹ کی بروقت نشاندہی ہو، اسے مسلسل نکھارا جائے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔“
میژگان اورکزئی، سربراہ پی ایف ایف ویمنز ڈیپارٹمنٹ، نے ان لیگز کو حال ہی میں متعارف کرائی گئی پی ایف ایف ویمنز فٹ بال ڈویلپمنٹ اسٹریٹجی پر عملی پیش رفت کا پہلا قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ”یہ لیگز ہماری حکمتِ عملی کو عملی شکل دیتی ہیں اور لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو فٹ بال میں حصہ لینے، مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے کے منظم مواقع فراہم کرتی ہیں۔ یہ پاکستان میں خواتین کے فٹ بال کی ترقی کے ہمارے وژن کو حقیقت بنانے کی جانب ایک اہم ابتدائی قدم ہے۔امل خان نیازی پی ایف ایف ویمنز فٹ بال مینیجر اور چیف آرگنائزر، نے لیگز میں کلبوں کی شرکت اور مسلسل مسابقتی مواقع کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا، ”ہمارا مقصد کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا پلیٹ فارم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے فٹ بال کلبوں کے لیے منظم مقابلوں میں شرکت کے بامعنی مواقع پیدا کرنا ہے۔ شی کا مطلب کھیل، امید اور بااختیار بنانا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ لیگز ان تینوں اصولوں کی عکاسی کریں۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو کھیلنے، خود اعتمادی بڑھانے اور اپنے خوابوں کے حصول کی جانب آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہییں۔ دیگر اور کلبوں وکھلاڑیوں کو مسابقتی نظام کا حصہ بنا کر ہم شرکت کے دائرے کو وسیع کرنے، کھیل کا معیار بلند کرنے اور فٹ بال میں آگے بڑھنے کے مزید راستے پیدا کرنے کی امید رکھتے ہیں۔“دونوں لیگز کا آغاز 10 اکتوبر کو جناح فٹسال گراؤنڈز، اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس میں ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں