خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے دفاع میں بات کرنے میں کوئی خوشی محسوس نہیں ہو رہی، بلاول
وفاقی حکومت کے فیصلے کے حق میں ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، پی ٹی آئی وفاقی حکومت اور صدرِ پاکستان پر الزامات تو لگا سکتی ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داری یا خیبر پختونخوا میں موجودہ سیاسی، قانونی اور آئینی حالات پیدا کرنے میں اپنے نمایاں کردار سے انکار نہیں کر سکتی
کے پی کےمیں پی ٹی آئی حکومت نے خود پر سیاسی خودکش حملہ کیا ہے،حکومت نے اس اقدام سے بچنے کے لیے اپوزیشن کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی سے خطابstron

اسلام آباد:(جاگیر نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے دفاع میں بات کرنے میں کوئی خوشی محسوس نہیں ہو رہی، لیکن وہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے حق میں ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حوالے سے اپنی جماعت کے عزم کا اعادہ کیا۔ چیئرمین بلاول نے آئین کے آرٹیکل 232 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے اس اقدام سے بچنے کے لیے اپوزیشن کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اگرچہ اپوزیشن کو فیصلے کی مخالفت کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اسے موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کا بھی اعتراف کرنا چاہیے۔ اگرچہ اپوزیشن عوامی سطح پر اس کا اعتراف نہ کرے، لیکن اس کی ذمہ دار قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے خود پر سیاسی خودکش حملہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی وفاقی حکومت اور صدرِ پاکستان پر الزامات تو لگا سکتی ہے، لیکن وہ اپنی ذمہ داری یا خیبر پختونخوا میں موجودہ سیاسی، قانونی اور آئینی حالات پیدا کرنے میں اپنے نمایاں کردار سے انکار نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے یہ آگاہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کو جنگ جیسی صورتحال کا سامنا ہے اور داخلی سیکیورٹی کی صورتحال اس کی انتظامی صلاحیت سے باہر ہے یا وہ دہشت گردی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے سے قاصر ہے، تو پی ٹی آئی حکومت کو صدر کی جانب سے اس فیصلے پر دستخط نہ کرنے کے لیے کوئی ٹھوس جواز پیش کرنا چاہیے تھا۔ نہ تو صدر اور نہ ہی پیپلز پارٹی کو وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت سے باز رہنے کی کوئی وجہ فراہم کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ صدر کو پہنچایا گیا اور پیپلز پارٹی کو اس بارے میں پہلی بار علم ہوا، تو پارٹی کا موقف تھا کہ اس آئینی ایٹم بم” کے استعمال سے قبل پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے۔ پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کو آگاہ کیا تھا کہ وفاقی حکومت کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کر رہی تھی۔ لہٰذا سوال یہ تھا کہ ان اعتراضات کا ازالہ کیسے کیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس اقدام کے لیے کوئی قانونی یا آئینی جواز، یا سیاسی بہانہ باقی نہ رہے۔ پیپلز پارٹی کے دو نمائندے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے والی کمیٹی کا حصہ تھے۔ رات گئے انہیں مطلع کیا گیا کہ مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ اپوزیشن، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو باضابطہ طور پر ‘دہشت گردی سے متاثرہ علاقے قرار دینے کے حوالے سے صوبائی حکومت کے فیصلے سے اتفاق کر لے گی۔ قومی اور صوبائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے سلسلے میں اپوزیشن اس بات پر بھی متفق ہو گئی تھی کہ وفاقی حکومت، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور صوبے کے وزیراعلیٰ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے واقعی لگا کہ ہم نے ایک بہت بڑی سیاسی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ چیئرمین بلاول نے ایوان میں اس بات کا اعادہ کیا جو وہ پہلے ہی عوامی سطح پر کہہ چکے تھے کہ اگر کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے سیاسی گنجائش کو محدود کیا گیا تو اسے صرف اسی جماعت تک محدود رکھنا ناممکن ہوگا۔ ایسی پابندیاں ہر سیاسی جماعت، سیاسی کارکن اور پاکستانی شہری کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے ذمہ دار ہم بھی ہیں، لیکن اپوزیشن اس بات سے انکار نہیں کر سکتی کہ وہ بھی اس کی ذمہ دار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں اسے افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا سامنا کرنے والے ایک صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جبکہ اسی صوبے کے وزیراعلیٰ ایک عوامی اجتماع میں لوگوں سے حلف لے رہے تھے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف نہیں لڑیں گے۔ انہوں نے سوال کیا، “اگر یہ سیاسی خودکشی نہیں تھی تو پھر کیا تھا”؟ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جس کے کارکنوں اور قیادت نے عظیم قربانیاں دیں اور شہادتیں نوش کیں۔ اپوزیشن کے اقدامات اور بیانات کے پیشِ نظر، صدر، خود ان کے یا کسی اور کے لیے اس دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کرنے کی کوئی سیاسی، قانونی یا آئینی جواز باقی نہیں رہا تھا۔ انہوں نے کہا، “اب ہم نے یہ قانونی اور آئینی قدم اٹھا لیا ہے”، لیکن آج بھی وفاقی حکومت کو میرا مشورہ ہے کہ وہ مسائل کے حل اور درمیانی راستہ نکالنے کے لیے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کرے۔ ہم اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایمرجنسی ایک عارضی انتظام ہے اور اسے طویل عرصے تک برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر پاکستان کو دہشت گردی سے نجات حاصل کرنی ہے تو پورے معاشرے کی جانب سے اجتماعی ردعمل ناگزیر ہے۔ ملک دہشت گردی کو شکست دے سکتا ہے جیسا کہ اس نے ماضی میں کیا ہے، لیکن دہشت گردی کی آگ بجھانے کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے میں اپوزیشن کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اور مزید کہا کہ پاکستان کو آج جس خطرے کا سامنا ہے وہ پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں بھارت کو شکست دی ہے، ایک ایسی فتح جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے چھ لڑاکا طیارے مار گرا کر اسے عالمی برادری کے سامنے شرمندہ کیا۔ بھارت نے پہلے خود کو نیٹ سیکیورٹی فراہم کرنے والےکے طور پر پیش کیا تھا لیکن اب وہ اس حیثیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس ناکامی کو ہضم نہیں کر پا رہا، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی بدستور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ “آپریشن سندور” جاری ہے۔ چیئرمین بلاول کے مطابق، اگر کوئی کارروائی جاری تھی تو بھارت اسے ٹی ٹی پی اور علیحدگی پسند گروہوں کے ذریعے آگے بڑھا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردانہ واقعات کی سرپرستی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال میں بھارت کا ملوث ہونا کوئی اتفاق نہیں تھا، اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے امریکہ اور دیگر فریقین کے درمیان امن کے قیام کی کوششوں کی اہم ذمہ داری اٹھائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس ذمہ داری کو نبھانے کے عزم کا خیرمقدم دنیا بھر کے ساتھ ساتھ خود پاکستان میں بھی کیا گیا۔ تاہم، ایک ملک ان امن کوششوں سے ناخوش تھا اور انہیں کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا یہ صیہونی قوتیں پاکستان کی داخلی سیاست میں مداخلت کر رہی ہیں اور کرتی رہیں گی۔ وہ پاکستانی ریاست کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے کی پوری کوشش کریں گی اور کر بھی رہی ہیں جو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بے گناہوں کا خون بہا رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان تمام قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کا متحد رہنا ضروری ہے۔ اگر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اپنی مادرِ وطن کے دفاع کے لیے آمادگی ظاہر کرنے پر تیار نہ ہوں تو پاکستان تنہا لڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ تاہم، اگر دو جماعتیں مل کر دہشت گردوں سے لڑنے پر تیار ہوں تو وہ ایسا کریں گی۔ انہوں نے کہا، “ہم نہ کل ان دہشت گردوں سے ڈرے تھے اور نہ آج ڈریں گے”۔ کل ان کے پیچھے کوئی اور تھا اور آج مختلف قوتیں ان کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ ہم ان کے پشت پناہوں کا بھی مقابلہ کریں گے۔ چیئرمین بلاول نے اپوزیشن کو اس حقیقت کا ادراک کرنے کی دعوت دی کہ پاکستان نہ صرف ان کا ملک ہے بلکہ پی ٹی آئی کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سیاسی اختلافات برقرار رہیں گے، لیکن بنیادی معاملات پر اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ ایسے اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں ناکامی نہ صرف سیاست بلکہ مجموعی طور پر ملک کو نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا، کہ بٹ جانے والا گھر گرنے کا شکار ہوتا ہے۔ اگر ہم متحد رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں گرا نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ایک ہی وقت میں تمام محاذ نہیں کھولنا چاہے گی اور نہ ہی وہ بیک وقت بھارت، صیہونی قوتوں، بی ایل اے ، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنا چاہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس ایوان سے شروعات کرنی چاہیے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات پر ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کے لیے پیپلز پارٹی کی درخواست قبول کر لی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کمیٹی صرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ارکان پر مشتمل ہوئی تو یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کی شمولیت سے بامعنی بہتری لانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب ن لیگ کی حکومت تھی تو اتفاقِ رائے سے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا اگر آپ وزیراعظم ہاؤس کو تسلیم نہیں کرتے تو کم از کم اس ایوان کو تو تسلیم کریں۔ کیا پی ٹی آئی اس کمیٹی کا رکن بننے کے لیے تیار ہے؟ میں اس کمیٹی میں دونوں اطراف کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ تاریخ شاذ و نادر ہی ایسے مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے انتھک کام کرے گی اور چاہتی ہے کہ پاکستان اور خیبر پختونخوا سرخرو ہوں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کے لیے آگے آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں سیاسی صورتحال پیدا کی گئی تو میں وزیراعظم سے اس ایمرجنسی کو ختم کرنے کی درخواست کروں گا۔ پیپلز پارٹی کو ایمرجنسی کی حمایت کرنے میں کوئی خوشی نہیں ہوگی۔اس سے قبل قومی اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو اور ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین بلاول نے میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا کے گورنر کو ایک اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے، ان سے ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹی خبر ہے۔




