پی ٹی آئی بلاول بھٹو زرداری کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرے: پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس سیل

بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری مکالمے، آئین کی بالادستی اور سیاسی مفاہمت کی پالیسی کا عکاس ہے

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور تمام سیاسی قوتوں کا تعاون ناگزیر ہے،سمانہ ملائکہ رضا

اسلام آباد:(جاگیر نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس سیل کی جنرل سیکرٹری سمانہ ملائکہ رضا نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سیاسی مذاکرات کی دوبارہ پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لیے آگے بڑھے تاکہ خیبر پختونخوا میں سیاسی بحران کا حل نکالا جا سکے اور ایمرجنسی کے جلد خاتمے کی راہ ہموار ہو۔
سمانہ ملائکہ رضا نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری مکالمے، آئین کی بالادستی اور سیاسی مفاہمت کی پالیسی کا عکاس ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ پیشکش کہ اگر ضروری سیاسی حالات سازگار ہوں تو وہ خود وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے، سیاسی بحران کے حل کے لیے ایک اہم موقع ہے، جس سے تمام سیاسی قوتوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور جمہوری طریقہ کار کی حامی رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے چیلنجز کے پیش نظر سیاسی قیادت کو ذمہ داری، سنجیدگی اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
سمانہ ملائکہ رضا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور تمام سیاسی قوتوں کا تعاون ناگزیر ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے، جبکہ سیاسی اختلافات کو تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایمرجنسی مستقل انتظام نہیں بننی چاہیے اور نہ ہی اسے سیاسی اتفاقِ رائے کا متبادل سمجھا جا سکتا ہے۔ غیر معمولی آئینی اقدامات بھی آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور مقررہ آئینی تقاضوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ پارلیمان اور جمہوری اداروں کو ملک کے سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس سیل کی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے دوران بھی شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کی عزت، جان و مال اور آئینی حقوق کا احترام ضروری ہے۔ پُرامن سیاسی سرگرمیوں کی آزادی، قانونی کارروائی کے تقاضوں اور من مانی گرفتاریوں سے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ سکیورٹی اقدامات کو پُرامن سیاسی سرگرمیوں کو دبانے یا شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔سمانہ ملائکہ رضا نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دے اور وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ سیاسی قوتوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے اور ایسے سیاسی حل کے لیے اقدامات کرے جس کے نتیجے میں ایمرجنسی کے تسلسل کی ضرورت ختم ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے سیاسی تصادم کے نتائج بھگتنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ اولین ترجیح صوبے میں امن و استحکام کی بحالی، جمہوری نظام کا تحفظ، بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی ہونی چاہیے۔سمانہ ملائکہ رضا نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی مذاکرات، مفاہمت اور جمہوری حل پر یقین رکھتی ہے۔ ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم سے بات کرنے کی ان کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ قومی سلامتی، آئینی جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ساتھ ساتھ چلنا چاہیے، جبکہ ایمرجنسی کے جلد از جلد خاتمے کے لیے ہر ممکن سنجیدہ کوشش کی جانی چاہیے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں