​24 اکتوبر: تاسیسِ آزاد کشمیر اور جذبۂ حریت کی لافانی داستان

​تحریر: رفیع صحرائی

​قوموں کی سرفرازی اور آزادی کی تاریخ میں کچھ ایام محض تقویم کا ہندسہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ نسلوں کے شعور، بالیدگی اور عزمِ مصمم کی علامت بن جاتے ہیں۔ 24 اکتوبر کا دن بھی تاریخِ عالم میں ایک ایسا ہی تابناک اور سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والا دن ہے، جب اہل کشمیر ظلم و جبر کے اندھیروں میں امید کے دیپ جلا کر آزادی کی منزل کے پہلے پڑاؤ پر خیمہ زن ہوئے تھے۔ آج سے سات دہائیاں قبل 24 اکتوبر 1947ء کو غازیِ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں آزاد جموں و کشمیر کی انقلابی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ایک ایسی حکومت جس کی بنیادی روح اور مقصدِ اولیں ہی یہ طے پایا تھا کہ یہ خطہ تحصین و استقامت کے ساتھ ”تحریکِ آزادیِ کشمیر کا بیس کیمپ“ ثابت ہوگا۔
​یہ تاریخی پیش رفت کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ اس جدوجہدِ مسلسل کا قدرتی ثمر تھی جس کا باقاعدہ اعلان 19 جولائی 1947ء کو سردار ابراہیم کے گھر مکں منعقدہ تاریخی اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں واضح کیا گیا تھا کہ تقسیمِ ہند کے طے شدہ اصولوں، ریاست میں 80 فیصد مسلمان آبادی کی وجودگی اور پاکستان کے ساتھ صدیوں پر محیط مذہبی، ثقافتی، معاشی و مواصلاتی رشتوں کا تقاضا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ ریاست کا الحاق پاکستان سے کرے۔ لیکن جب حاکمِ وقت نے عوامی امنگوں اور تاریخی حقائق کو ٹھکرا کر مکاری کا راستہ اختیار کیا، تو حریت پسند کشمیریوں نے علمِ جہاد بلند کر دیا۔ جس کے نتیجے میں 5,000 مربع میل سے زائد کا علاقہ جابرانہ تسلط سے آزاد کرا لیا گیا۔
​اسی حریت اور جہاد کو منظم سیاسی، انتظامی اور سفارتی توانائی فراہم کرنے کے لیے 24 اکتوبر کو حکومت کی تشکیل عمل میں آئی۔ ہندوستان جب اس عوامی و مسلح مقاومت سے سراسیمہ ہوا تو بھاگتا ہوا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پہنچا۔ وہاں 13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کے ”حقِ خودارادیت“ یعنی استصوابِ رائے کو تسلیم کیا گیا۔ بھارت کے آنجہانی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے سری نگر کے لال چوک پر کھڑے ہو کر عالمی برادری اور کشمیری قوم سے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کی مرضی کا احترام کیا جائے گا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے اپنے ہی وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے وادی کو غصب کر کے غاصبانہ قبضے کو ”اٹوٹ انگ“ کا نام دے دیا۔
​آج ہم جب آزاد کشمیر کا 79 واں یومِ تاسیس منا رہے ہیں، تو منظر نامہ اس حقیقت کی گواہی دے رہا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ بے رخی اور بھارت کی بدترین ہٹ دھرمی کے باوجود کشمیریوں کے سینوں میں آزادی کی جوت مدہم نہیں ہو سکی۔ بھارتی قابض افواج نے وادیِ کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے کھلے زندان میں تبدیل کر رکھا ہے۔ نریندر مودی کے فاشسٹ اور ہندوتوا کے پیروکار دورِ حکومت میں ظلم و بربریت کے پچھلے تمام تر ستم ڈھانے کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ سات لاکھ سے زائد قابض فوجی اہلکار نہ صرف معصوم اور نہتے کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کر رہے ہیں، بلکہ آبرو ریزی اور نسل کشی جیسے گھناؤنے جابرانہ حربے برت رہے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شہید ہونے والے نوجوانوں کی میتیں تک ان کے غمزدہ لواحقین کے حوالے نہیں کی جاتیں اور انہیں نامعلوم اجتماعی قبروں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ اگر بے بس والدین اپنے جگر گوشوں کی میتوں کا مطالبہ کریں تو ان پر ”دہشت گردی ایکٹ“ کے تحت مقدمات بنا دیے جاتے ہیں۔
​لیکن مودی سرکار اور بھارتی شاطرانہ ذہنیت یہ بھول چکی ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ شہداء کی تیسری نسل آج بھارتی ریاست کے مظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ بھارتی زندانوں میں برسوں سے قید و بند کی صعوبتیں کاٹنے والے نوجوان بوڑھے ہو چکے ہیں، مگر ان کی روح اور آواز آج بھی چٹان کی طرح مضبوط ہے۔ وادی کی گلیوں اور بھارتی قید خانوں کی دیواروں سے آج بھی یہی نعرہ گونجتا ہے:
”پاکستان سے رشتہ کیا؟ … لا الہ الا اللہ!“
”ہم کیا چاہتے؟ … آزادی!“
​اب وقت آ گیا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور قیادت کو محض روایتی تقریبات سے آگے بڑھ کر سفارتی، تعلیمی اور میڈیا محاذ پر متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسے دنیا بھر میں کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کے لیے مؤثر عالمی لابی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کا دہرے معیار کے رویہ جو مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر خطوں میں تو فوری کارروائی کرتا ہے مگر کشمیر اور فلسطین پر خاموش رہتا ہے، کو بے نقاب کرنے کے لیے مربوط سفارتی مہم چلائی جائے تاکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
​ 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اقدامات کے بعد بھارت مقبوضہ وادی میں غیر کشمیریوں کو آباد کر کے مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی جو ناپاک کوشش کر رہا ہے، اسے عالمی جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔
​شبِ تاریک جتنی بھی لمبی اور طویل ہو جائے، صبحِ نو کا طلوع ہونا اٹل حقیقت ہے۔ کشمیری قوم نے گزشتہ قریباً آٹھ دہائیوں میں اپنے خون کے جو سمندر پار کیے ہیں اور آزادی کی دلہن کو بیاہنے کے لیے جو بے مثال حقِ مہر ادا کیا ہے، وہ رائیگاں نہیں جائے گا۔ وہ دن ان شاء اللہ دور نہیں جب مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھی حریت کا سورج طلوع ہوگا اور ہندوستانی تسلط کا تاریک باب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
​

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں