پاکستان کی ترقی یا بیوروکریسی؟

تحریر:مقبول حسین تبسم

پاکستان میں جمہوریت ہو، آمریت ہو، ہائبرڈ نظامِ حکومت ہو یا پھر کوئی اور طرزِ حکمرانی، اصل حکمرانی کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ بیوروکریسی کے ہاتھ میں رہا ہے۔ حکمران آتے جاتے رہتے ہیں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، وزرائے اعظم تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لیکن بیوروکریسی کا نظام اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا رہتا ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس کی جڑیں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ منتخب حکومتیں بھی اکثر اس کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان میں بیوروکریسی کا ایک بڑا حصہ عوام کی خدمت کے بجائے اختیارات کے تحفظ، مراعات کے حصول، فائلوں کو دبانے، عوام کو دفتری چکروں میں الجھانے اور سرکاری مشینری کو اپنی مرضی سے چلانے کی شہرت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ملک کب تک اس فرسودہ نظام کا بوجھ اٹھاتا رہے گا؟ کب تک عوام اپنے ہی ٹیکس سے تنخواہیں لینے والے افسران کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں گے؟ کب تک ایک عام پاکستانی کو اپنے جائز کام کے لیے سفارش، رشوت، منت سماجت اور سیاسی اثرورسوخ کا سہارا لینا پڑے گا؟ پاکستان میں عوام کی حیثیت ایک سائل کی اور افسر کی حیثیت ایک آقا کی کیوں بن چکی ہے؟ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکمرانی ہے، لیکن جب ریاستی مشینری کے بنیادی فیصلے ایسے نظام کے تابع ہوں جس میں عوامی جواب دہی کمزور اور افسر شاہی کے اختیارات مضبوط ہوں تو جمہوریت محض انتخابی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں عام شہری کو قانون کی پابندی کا درس دینے والے خود اپنے اختیارات اور مراعات کے معاملے میں جواب دہی سے بچنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بیوروکریسی کا مسئلہ صرف چند بدعنوان افسران نہیں، بلکہ وہ انتظامی ڈھانچہ ہے جس میں اختیار تو بے پناہ ہے مگر عوام کے سامنے جواب دہی اکثر کمزور دکھائی دیتی ہے۔ یہ نظام عوام کو سہولت دینے کے بجائے ان کی زندگی مشکل بناتا ہے، ان کے وقت کو ضائع کرتا ہے اور کئی معاملات میں انہیں اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں وہ اپنے جائز حق کے لیے بھی بے بس محسوس کرتے ہیں۔ پاکستانی بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران کی دوہری شہریت کے حوالے سے 30 ہزار سے زائد کا عدد مختلف حلقوں میں بیان کیا جاتا ہے، تاہم اس دعوے کی مستند تصدیق ضروری ہے۔ لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ حساس ریاستی عہدوں پر تعیناتی کے لیے شہریت، مفادات کے ٹکراؤ اور قومی وفاداری کے اصول کتنے واضح اور مؤثر ہیں؟ کیا قومی سلامتی، دفاع، خارجہ امور، خزانے اور اہم انتظامی معاملات سے وابستہ عہدوں کے لیے ایسے سخت ضابطے نہیں ہونے چاہییں جو کسی بھی ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو روک سکیں؟ ریاست سے وفاداری صرف حلف اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینے کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ جب عام پاکستانی سے وفاداری، ٹیکس، قانون اور ذمہ داریوں کے حوالے سے سخت سوالات کیے جاتے ہیں تو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو ان سوالات سے بالاتر کیوں سمجھا جائے؟ قانون کا پیمانہ غریب کے لیے الگ اور طاقت ور کے لیے الگ نہیں ہونا چاہیے۔ دوہری شہریت رکھنے والے ہر فرد کو غدار قرار دینا درست نہیں، لیکن حساس عہدوں کے لیے واضح قانونی پابندیاں، شفاف جانچ اور مفادات کے ٹکراؤ سے تحفظ لازمی ہونا چاہیے۔ اب ذرا اعلیٰ افسران کی تنخواہوں، مراعات اور اختیارات پر نظر ڈالیں۔ ایک طرف عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بلوں، بچوں کی فیسوں اور علاج کے اخراجات میں پِس رہا ہے، دوسری طرف ریاستی نظام کے بعض طاقت ور عہدوں کے ساتھ سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور، رہائش، عملہ، ایندھن، فون، سکیورٹی اور دیگر سہولتیں وابستہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان مراعات کی حقیقی ضرورت کیا ہے، ان کی لاگت کتنی ہے اور ان کا حساب کون لیتا ہے؟ اگر کسی افسر کی تنخواہ مقرر ہے تو اس کے اثاثوں، جائیدادوں، بچوں کی مہنگی تعلیم اور طرزِ زندگی کے اخراجات کے ذرائع کی جانچ کیوں نہ ہو؟ کیا سرکاری عہدہ اس بات کا لائسنس ہے کہ آدمی اپنی تنخواہ سے کہیں زیادہ آسائشیں حاصل کرے اور کوئی اس سے سوال بھی نہ کرے؟ یہ کسی مخصوص افسر پر الزام نہیں بلکہ اس نظام سے سوال ہے جس میں آمدن، اثاثوں اور مراعات کے بارے میں شفافیت کو غیر معمولی اہمیت ملنی چاہیے۔ اختیارات اگر احتساب کے بغیر استعمال ہوں تو وہ عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری عہدوں کے ساتھ غیر ضروری مراعات اور بے لگام اختیارات کا خاتمہ انتظامی اصلاحات کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔ سب سے بڑا سوال ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات کا ہے۔ ایک عام پاکستانی پوری زندگی محنت کرتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے قرض لیتا ہے، بیماری کی صورت میں نجی ہسپتالوں کے بھاری بل ادا کرتا ہے اور بڑھاپے میں بھی معاشی مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ دوسری طرف بعض اعلیٰ عہدوں کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پنشن، دوبارہ سرکاری ملازمت، سرکاری رہائش، گاڑی، عملے یا دیگر سہولتوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر عوامی خزانہ کب تک چند مخصوص طبقات کی اضافی آسائشوں کا بوجھ اٹھاتا رہے گا؟ پنشن اور قانون کے تحت حاصل شدہ جائز حقوق اپنی جگہ، لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد اضافی عہدے، غیر ضروری پروٹوکول اور سرکاری وسائل کے مسلسل استعمال کا جواز کیا ہے؟ کیا ان سہولتوں کے لیے عوامی ضرورت کا کوئی شفاف معیار موجود ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس نظام کو بدلنے سے گریز کیوں کیا جا رہا ہے؟ عوام نے کسی افسر کو تاحیات سرکاری خزانے پر بوجھ بننے کا اختیار نہیں دیا۔ ہر مراعت کا حساب ہونا چاہیے، ہر اضافی سہولت کی ضرورت ثابت ہونی چاہیے اور ہر سرکاری خرچ کا جواز عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ سابق حکمرانوں اور اعلیٰ افسران کو حاصل سفری دستاویزات، سکیورٹی اور دیگر سہولتوں کے قواعد بھی شفاف ہونے چاہییں۔ کسی شخص کا سابقہ عہدہ اسے غیر معینہ مدت تک غیر معمولی سرکاری سہولتوں کا حقدار نہیں بنا سکتا، جب تک اس کے لیے واضح قانونی بنیاد اور حقیقی ضرورت موجود نہ ہو۔ ایک طرف پاکستان کے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں، سرکاری ہسپتال ادویات اور سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں، شہری صاف پانی کے لیے ترستے ہیں اور لوگ بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے اپنی ضروریات قربان کرتے ہیں، دوسری طرف سرکاری وسائل سے مراعات یافتہ طبقے کی آسائشوں کا نظام برقرار رہتا ہے۔ یہ کیسا نظامِ انصاف ہے کہ عوام اپنی بنیادی ضروریات اپنی جیب سے پوری کریں اور حکمران اشرافیہ کے اضافی اخراجات بھی بالآخر عوام ہی کے ٹیکس سے برداشت کیے جائیں؟ اگر ریاست کے پاس وسائل محدود ہیں تو پہلی ترجیح عوام کی تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور بنیادی سہولتیں ہونی چاہییں، نہ کہ سرکاری عہدوں کے گرد مراعات کا ایسا حصار جس کا حساب عام شہری کو نظر نہ آئے۔ سیاست دان بھی اس صورتِ حال سے بری الذمہ نہیں۔ انتخابات سے پہلے عوام کے درمیان جانے والے، غربت ختم کرنے کے دعوے کرنے والے اور عام آدمی کی زندگی بدلنے کے وعدے کرنے والے اقتدار میں پہنچ کر اکثر پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں اور سکیورٹی کے بڑے انتظامات کے حصار میں آ جاتے ہیں۔ حقیقی سکیورٹی کی ضرورت سے انکار نہیں، لیکن غیر ضروری پروٹوکول اور بے جا اخراجات کا دفاع بھی نہیں کیا جا سکتا۔ عوام نے اپنے نمائندے خدمت کے لیے منتخب کیے ہیں، مستقل مراعات یافتہ طبقہ بنانے کے لیے نہیں۔ اگر سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے تو اقتدار کے بعد عوام سے فاصلے کیوں بڑھ جاتے ہیں؟ اگر حکمران عام آدمی کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں تو پھر ان کی ترجیحات میں سب سے پہلے عام آدمی کی مشکلات کیوں نظر نہیں آتیں؟ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کی تقسیم پر بھی سنجیدہ نظرثانی ضروری ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد متعدد شعبوں میں صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے، لیکن وفاقی و صوبائی سطح پر انتظامی اخراجات، محکموں کی ذمہ داریوں اور اختیارات کی تقسیم کا مؤثر جائزہ اب بھی اہم ہے۔ جہاں ایک ہی نوعیت کے کام مختلف سطحوں پر دہرائے جا رہے ہوں، وہاں یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ عوام کے پیسے سے دوہرا نظام کیوں چلایا جا رہا ہے؟ وفاقی حکومت کا حجم، غیر ترقیاتی اخراجات اور انتظامی ڈھانچے کا جامع آڈٹ ہونا چاہیے۔ جو کام صوبے بہتر انداز میں انجام دے سکتے ہیں، انہیں غیر ضروری مرکزی کنٹرول سے آزاد کیا جائے۔ البتہ یہ عمل قانونی ذمہ داریوں، قومی رابطہ کاری اور عوامی خدمات کو متاثر کیے بغیر ہونا چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انتظامی اصلاحات کے نام پر ہر حکومت وعدے تو کرتی ہے، لیکن جب مراعات، اختیارات اور عہدوں کی تقسیم کو بدلنے کی باری آتی ہے تو مزاحمت سامنے آتی ہے۔ بیوروکریسی کے پاس فائلوں، قواعد، نوٹنگ، ڈرافٹنگ اور بریفنگ کے ذریعے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ جب یہی انتظامی مشینری اصلاحات کے عمل پر حاوی ہو جائے تو منتخب حکومتوں کے لیے اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ کمشنر سے پٹواری، ڈائریکٹر جنرل سے جونیئر کلرک اور چیف سیکریٹری سے سیکشن افسر تک پورے نظام میں عوامی جواب دہی اور خدمات کی فراہمی کے واضح معیار ہونے چاہییں۔ کسی شہری کا جائز کام روکنا، اسے بار بار دفتر بلانا، غیر ضروری کاغذات طلب کرنا، ایک میز سے دوسری میز پر فائل گھمانا اور شکایت کے باوجود کارروائی نہ کرنا محض دفتری کوتاہی نہیں بلکہ عوام کے وقت، عزت اور حقوق کی پامالی ہے۔ اگر سرکاری دفتر میں شہری کی بات سننے والا کوئی نہیں، اگر جائز کام کے لیے سفارش ضروری سمجھی جائے اور اگر افسر کے غلط فیصلے کے خلاف داد رسی مشکل ہو تو پھر اس نظام کو عوام دوست کیسے کہا جا سکتا ہے؟ بیوروکریسی کو سمجھنا ہوگا کہ سرکاری دفتر کسی افسر کی ذاتی جاگیر نہیں اور سرکاری کرسی کسی بادشاہت کا تخت نہیں۔ افسر عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتا ہے، اس لیے اس کی پہلی ذمہ داری عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں اپنے اختیارات کا احساس دلا کر بے بس کرنا۔ ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ ہر شعبے کی سربراہی کے لیے متعلقہ مہارت کو ضروری اہمیت نہیں دی جاتی۔ تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، تجارت، پولیس اور مالیات الگ الگ مہارتوں کے شعبے ہیں۔ محض عمومی انتظامی امتحان پاس کرنے یا سروس میں سینئر ہونے کی بنیاد پر ہر محکمے کی سربراہی سونپ دینا کامیاب گورننس کی ضمانت نہیں۔ کیا یہ مناسب ہے کہ ایک افسر چند سال ایک شعبے میں رہے، پھر اسے کسی دوسرے بالکل مختلف شعبے میں بھیج دیا جائے اور عوام اس تجربے کی قیمت ادا کریں؟ ترقی یافتہ انتظامی نظاموں میں پیشہ ورانہ مہارت، متعلقہ تجربے اور نتائج کو اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی افسران کی تعیناتی کا نظام قابلیت، متعلقہ شعبے کی سمجھ اور ثابت شدہ کارکردگی سے منسلک ہونا چاہیے۔ ہر تین سال بعد افسران کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور انتظامی صلاحیت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، جس میں عوامی شکایات، محکمے کی کارکردگی، وسائل کے استعمال، فیصلوں کے معیار اور شہریوں کے ساتھ رویے کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ یہ جائزہ شفاف اور غیر جانب دار ہونا چاہیے تاکہ کسی افسر کو ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جا سکے۔ اگر کسی افسر کی ترقی کا تعلق عوامی مسائل کے حل سے جوڑ دیا جائے تو اسے فائلیں روکنے کے بجائے کام کرنے، اختیارات جتانے کے بجائے سہولت دینے اور محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے کی ترغیب ملے گی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت دینے کا سلسلہ بھی سخت اصولوں کے تابع ہونا چاہیے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان ڈگریاں لیے روزگار کے لیے دربدر ہیں، لیکن اگر سرکاری عہدوں پر دوبارہ وہی ریٹائرڈ افسر تعینات کیے جائیں تو نوجوانوں کے لیے ترقی کے دروازے کیسے کھلیں گے؟ کسی مخصوص مہارت کی حقیقی ضرورت ہو تو شفاف طریقے سے تقرری کی جا سکتی ہے، لیکن محض سابقہ عہدے، تعلقات یا اثرورسوخ کی بنیاد پر دوبارہ ملازمت دینا میرٹ اور مساوی مواقع کے اصولوں سے متصادم ہے۔ نوجوانوں کو موقع دیجیے، انہیں ذمہ داریاں سونپیے اور ان کی کارکردگی کو پرکھیے۔ پاکستان میں ذہانت، صلاحیت اور محنت کی کمی نہیں؛ کمی ایسے نظام کی ہے جو میرٹ کو ذاتی تعلقات، روایتی عہدوں اور مراعات یافتہ حلقوں پر ترجیح دے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی ترقی چند حکمرانوں کو بدلنے سے ممکن ہے، یا اس کے لیے ریاستی مشینری کے اندر بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے؟ جب تک اختیارات کے ساتھ جواب دہی، مراعات کے ساتھ شفافیت، ترقی کے ساتھ کارکردگی اور سرکاری عہدوں کے ساتھ عوامی خدمت کو لازم نہیں کیا جاتا، تب تک نظام کی اصلاح کے دعوے محض نعرے رہیں گے۔ اعلیٰ عہدوں پر شہریت اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق واضح قواعد بنائے جائیں، اثاثوں کی مؤثر جانچ ہو، غیر ضروری پروٹوکول اور اضافی مراعات کا خاتمہ کیا جائے، ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تقرریوں پر سخت معیار نافذ ہوں، وفاقی اور صوبائی اخراجات کا آزادانہ آڈٹ ہو اور ہر افسر کی ترقی کو اس کی کارکردگی سے مشروط کیا جائے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے محکمے کی کارکردگی دیکھ سکیں، شکایت درج کرا سکیں اور مقررہ مدت میں اس کا جواب حاصل کر سکیں۔ بیوروکریسی کے تمام افسران کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا درست نہیں؛ اس نظام میں دیانت دار اور محنتی افسران بھی موجود ہیں۔ لیکن چند اچھے افسران کی موجودگی پورے نظام کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ریاست بدعنوانی، نااہلی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر ضروری مراعات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے؟ پاکستان کے عوام کسی سرکاری افسر کے دشمن نہیں، وہ اس نظام کے خلاف سوال اٹھا رہے ہیں جس میں عام شہری کو ہر قدم پر جواب دینا پڑتا ہے مگر طاقت ور عہدوں پر بیٹھے افراد سے سوال کرنے کا مؤثر نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ عوام اب کھوکھلے وعدوں اور اصلاحات کے اعلانات سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ انہیں عملی تبدیلی چاہیے، انہیں اپنے ٹیکس کا حساب چاہیے، انہیں باعزت سلوک چاہیے اور انہیں ایسی ریاست چاہیے جہاں کسی افسر کی مرضی قانون سے بڑی نہ ہو۔ پاکستان کو صرف حکمران بدلنے کی نہیں، حکمرانی کا پورا طریقہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر بیوروکریسی واقعی عوام کی خادم ہے تو اسے اپنی کارکردگی سے ثابت کرنا ہوگا۔ اگر سرکاری عہدہ خدمت کے لیے ہے تو اس کے ساتھ غیر ضروری مراعات اور بے حساب اختیارات کا جواز ختم ہونا چاہیے۔ اگر ریاست عوام کی ہے تو اس کے وسائل پر پہلا حق بھی عوام ہی کا ہونا چاہیے۔ اب مزید یہ نہیں چل سکتا کہ عوام ٹیکس دیں، مہنگائی برداشت کریں، بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں اور ایک طاقت ور انتظامی ڈھانچے کے اخراجات بھی خاموشی سے اٹھاتے رہیں۔ پاکستان کی ترقی کا راستہ مراعات یافتہ طبقے کے تحفظ سے نہیں، عوام کی خدمت، قانون کی بالادستی اور جواب دہی سے گزر کر نکلتا ہے۔ جب تک بیوروکریسی کو قانون اور عوام کے سامنے جواب دہ نہیں بنایا جاتا، جب تک اختیارات کی من مانی اور غیر ضروری مراعات کا خاتمہ نہیں ہوتا اور جب تک سرکاری عہدے کو عوام پر حکمرانی کے بجائے عوام کی خدمت کا ذریعہ نہیں بنایا جاتا، پاکستان کی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں