اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں اصلاحات فوری طورپر نافذ کی جائیں، وزیراعظم کا حکم
انفرا اسٹرکچر، نصاب، اساتذہ کی تربیت شامل،سکول بسوں کا دائرہ کار بڑھانے اور طلبا کو مفت لنچ کا نظام فعال بنانے کا حکم،وزیراعظم نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو اسلام آباد میں سرکاری سکولوں کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کی ہدایت کی ہے
اجلاس میں وفاقی دارالحکومت کے سرکاری سکولوں میں نصاب، انفراسٹرکچر اور دیگر امور کے حوالے سے سروے رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں سرکاری سکولوں کے لیے 278 سرکاری بسیں چل رہی ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم نے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں انفرا اسٹرکچر، نصاب، اساتذہ کی تربیت اور دیگر اصلاحات کو ہنگامی بنیادوں پر نافذ کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم کی زیرِصدارت اسلام آباد میں سکولوں میں اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کو اسلام آباد میں سرکاری سکولوں کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ طلبا و طالبات کو سکولوں میں محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، تمام سکولوں میں اسمارٹ بورڈز جلد از جلد نصب کیے جائیں،شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں سکولوں کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام وسائل فوری طور پر بروئے کار لائے جائیں۔وزیراعظم نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو ایک مؤثر اور فعال ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں انفراسٹرکچر کے تمام مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں، اسلام آباد کے سرکاری سکولوں کے اساتذہ تعلیم و تدریس کے علاوہ کسی اور سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔
وزیراعظم نے طلبا و طالبات کے لیے سرکاری سکول بسوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے، بسوں کی آؤٹ سورسنگ اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے جسمانی طور پر معذور طلباء و طالبات کے لئے تمام سرکاری سکولوں میں ریمپ قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکولوں میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد میں طلبا و طالبات کی غذائی نشوونما یقینی بنانے کے لیے مفت لنچ کا نظام فعال کیا جائے۔ وزیراعظم نے سرکاری سکولوں میں شمسی توانائی کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی دارالحکومت کے سرکاری سکولوں میں نصاب، انفراسٹرکچر اور دیگر امور کے حوالے سے سروے رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں سرکاری سکولوں کے طلبا و طالبات کی نقل و حمل کے لیے 278 سرکاری بسیں چل رہی ہیں۔




