پاکستان کے’’ڈیجیٹل اثاثے اور بینکاری کا مستقبل‘‘ پی بی اے اور لمز کا اہم مکالمہ

حکومت پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرضوں کو ٹوکنائز کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، وفاقی وزیرخزانہ کاخطاب

مؤثر پالیسی سازی، ریگولیٹری ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ جدت کے ذریعے پاکستان میں جدید،محفوظ ومستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، ماہرین

رپورٹ:بیورو چیف

لاہور(جاگیر نیوز) پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) اور لمز کے سینٹر فار ڈیجیٹل اثاثہ جات ریسرچ (CeDAR) کے اشتراک سے ’’ڈیجیٹل اثاثے اور بینکاری کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر اہم مکالمے کا انعقاد کیا گیا۔
جس میں حکومتی، مالیاتی اور ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ حکام، بینکاری صنعت کی قیادت اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔پاکستان بینکنگ سمٹ 2026ء کے سلسلے میں منعقدہ اس مکالمے میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی ترقی،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال،ڈیجیٹل اثاثوں کی ٹوکنائزیشن،سرحد پار ادائیگیوں اور پروگرام ایبل ادائیگیوں سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرضوں کو ٹوکنائز کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم اس اقدام پر پیش رفت ضروری منظوریوں سے مشروط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی حل کے مؤثر نفاذ کے لیے بینکوں، ریگولیٹری اداروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی نظام کے نئے ڈھانچے کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور محض دوسرے ممالک کے تیار کردہ نظاموں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کریں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے کہا کہ محض جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی بجائے اس کےعملی استعمال اور حقیقی افادیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے بلاک چین ٹیکنالوجی،سائبر سکیورٹی،منی لانڈرنگ کی روک تھام اور صارفین کی شناخت و تصدیق کے تقاضوں پر بھی زور دیا۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے کمشنر امتیاز حیدر نے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے حوالے سے واضح حکمت عملی اور معاشی افادیت پر مبنی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت صرف اثاثوں کو ٹوکنائز کرنے کی نہیں بلکہ اس عمل سے حقیقی معاشی فوائد حاصل کرنے کی ہے۔پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے کہا کہ بینک اس تبدیلی سے تحفظ نہیں چاہتے بلکہ واضح ضوابط کے خواہاں ہیں تاکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیاری کر سکیں۔ انہوں نے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل میں بینکاری صنعت کو مشاورتی عمل کا حصہ بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر علی چیمہ نے تحقیق، پالیسی سازی اور صنعتی تجربات کے درمیان مضبوط روابط کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس تعاون سے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔مکالمے کے دوران جے پی مورگن کے عمر فاروق کی سربراہی میں خصوصی صنعتی ورکشاپ بھی منعقد ہوئی، جس میں بینکاری ٹیکنالوجی کے ماہرین، ریگولیٹری اداروں کے نمائندوں اور تعلیمی شعبے سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مؤثر پالیسی سازی، ریگولیٹری ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ جدت کے ذریعے پاکستان میں جدید، محفوظ اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں