ہدایت کا سفر—گزشتہ اور موجودہ دور

تحریر:احمد خان اعوان
ہر دور میں ہدایت کا چراغ روشن ہوتا ہے.
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر زمانے میں انسان کو تاریکی سے نکالنے کے لیے روشنی کے چراغ جلائے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں انبیاء، اولیاء، گرو، اور ہادی بھیجے، جو انسانوں کو سچائی، محبت، اور روحانی شعور کی راہ دکھاتے رہے۔ مگر ایک المیہ ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے کہ لوگ ماضی کی عظیم ہستیوں کو تو مانتے ہیں، مگر اپنے وقت کے ہادی کو پہچاننے سے ہچکچاتے ہیں۔
ہدایت کا سفر—گزشتہ اور موجودہ دور
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اللہ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے کسی نہ کسی کو چُنا۔ حضرت نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰﷺ، یہ سب وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے اپنی قوموں کو سچائی کی راہ دکھائی۔ ان کے بعد ولیوں، عارفوں، گروؤں، اور صوفیوں نے اسی پیغام کو جاری رکھا۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ گزری ہوئی روشنی کو قبول کرتا ہے، لیکن جو روشنی اس کے دور میں چمک رہی ہوتی ہے، اسے پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نبی، ہر ولی، اور ہر ہادی کو اپنے زمانے میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کے جانے کے بعد ہی لوگ ان کی عظمت کے قائل ہوئے۔
کیا روشنی کبھی ختم ہوتی ہے؟
یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ ہدایت کا دروازہ ماضی میں بند ہو چکا ہے۔ اللہ کا فیض کبھی رکتا نہیں! جس طرح زمین ہمیشہ بارش سے سیراب ہوتی ہے، اسی طرح روحانی رہنمائی کا سلسلہ بھی ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے بندوں کے لیے کسی نہ کسی کو ذریعہ بناتا ہے۔ وہی روشنی جو بدھا، کرشنا، مہاویر، موسیٰ، عیسیٰ، اور سلیمان میں تھی، وہی روشنی آج بھی موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم اسے پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔
وقت کے مرشد کو پہچاننا ضروری ہے.
اگر کوئی انسان حقیقت کی تلاش میں ہے، تو اسے اپنے زمانے کے ہادی کو پہچاننا ہوگا! صرف ماضی کے بزرگوں کی عظمت بیان کرنا کافی نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہدایت کا سرچشمہ آج بھی جاری ہے۔ جب ایک شخص اپنے وقت کے ہادی کو پہچان لیتا ہے، تو وہ ماضی کے تمام نبیوں، ولیوں، اور گروؤں کی روشنی کو اسی ایک ہستی میں دیکھنے لگتا ہے۔مرشد ہی ہر دور میں روشنی کا منبع ہوتا ہے! وہی بدھا ہے، وہی کرشنا ہے، وہی مہاویر ہے، وہی موسیٰ، عیسیٰ، یحییٰ، داؤد اور سلیمان ہے! سچائی ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے، بس ہر زمانے میں نئے چہرے کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔
۔اور یہی حقیقت سلطان باہوؒ نے ایک جملے میں بیان کر دی:
مرشد دا دیدار وے باہو…سانوں لکھ کروڑاں حجاں ہو
یعنی اگر حقیقت میں کسی کو مرشد کا دیدار نصیب ہو جائے، تو اس کا مقام لاکھوں حج کرنے سے بھی بڑھ کر ہے! کیونکہ حج کے سفر میں ایک مومن خانہ کعبہ تک پہنچتا ہے، مگر مرشد کے دیدار سے حقیقت کے کعبے کا دروازہ کھل جاتا ہے!۔
حاصل کلام —کیا ہم تیار ہیں؟
یہ وقت سوچنے کا ہے۔ کیا ہم بھی صرف ماضی کے قصے سنا کریں گے؟ یا پھر ہم اپنے وقت کی روشنی کو پہچاننے کی ہمت کریں گے؟ ہدایت ہر دور میں موجود ہوتی ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں اور اس نور کو دیکھنے کی کوشش کریں۔
تو بتا… کیا تُو اپنے وقت کے چراغ کو پہچاننے کے لیے تیار ہے؟
۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں