فٹ بال فارسکولز پروگرام شروع: 30 لاکھ طلباء ,3 ہزار سرکاری سکولوں تک رسائی کا ہدف
پی ایف ایف صدر سید محسن گیلانی نے ملک بھر میں فٹ بال کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر پروگرام کا آغاز کردیا
طلباء میں ایک لاکھ62 ہزار فٹ بال تقسیم کیے جائیں گے،فیفا ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ اسکیم جنوری 2027ء میں شروع کی جائے گی
سپورٹس رپورٹر:نعیم روحانی
اسلام آباد:(جاگیر نیوز) پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے پاکستان میں فیفا کے فٹ بال فار سکولز پروگرام کا باضابطہ آغاز کردیا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے 3 ہزار سرکاری سکولوں کے ذریعے 30 لاکھ طلباء تک فٹ بال پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس پروگرام کا مقصد ملک میں گراس روٹس سطح پر فٹ بال کو فروغ دینا، کھیل میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو شامل کرنا اور فٹ بال کی مضبوط بنیاد قائم کرنا ہے۔پروگرام کے تحت 50 سے زائد ماسٹر ٹرینرز نے فیفا کے ماہرین کی نگرانی میں اپنی تربیت مکمل کرلی ہے۔ تربیتی پروگرام کی قیادت فیفا کے سینیئر فٹ بال فار سکولز منیجر انتونیو بویانو سانچیز نے کی۔ افتتاحی تقریب میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی قیادت کے علاوہ فیفا، وزیراعظم یوتھ پروگرام اور یونیسکو کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے فٹ بال فار سکولز کے آغاز کو پاکستان فٹ بال کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ گراس روٹس فٹ بال کا فروغ فیڈریشن کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہوگا۔گیلانی نے کہا کہ 3 ہزار سکولوں کے ذریعے 30 لاکھ طلباء تک رسائی کا ہدف ایک محتاط اندازہ ہے اور پی ایف ایف اس پروگرام کو اس سے کہیں آگے لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پروگرام کے تحت ایک لاکھ 62 ہزار فٹ بال سکولوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فٹ بال کے لیے مناسب سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، اسی لیے پروگرام کا آغاز سرکاری سکولوں سے کیا جارہا ہے۔ سکولوں اور اساتذہ کے انتخاب کے معیار فیفا نے طے کیے، جبکہ سکولوں کی نشاندہی وزیرآعظم یوتھ پروگرام اور یونیسکو سمیت پی ایف ایف کے شراکت داروں کے تعاون سے کی گئی۔پی ایف ایف اس پروگرام میں ضلعی اور علاقائی فٹ بال ایسوسی ایشنز کو بھی شامل کرے گی تاکہ سکولوں کو ملک کے فٹ بال نظام سے جوڑا جاسکے اور مختلف سطحوں پر کھیل کی سرگرمیاں مربوط انداز میں آگے بڑھائی جاسکیں۔“گراس روٹس فٹ بال کی ریڑھ کی ہڈی ہے،”محسن گیلانی نے کہا اس پروگرام کے لیے فیفا کےصدر گیانی انفانتینو کے وژن اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے فٹ بال فار سکولز کے دو بنیادی مقاصد بیان کیے، پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی تک سکولوں کے ذریعے فٹ بال پہنچانا اور اس پروگرام کو نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے استعمال کرنا ہے۔محسن گیلانی نے اساتذہ کے کردار کو بھی انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنی اپنی کمیونٹیز میں فٹ بال کے سرپرست اور سفیر کا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے اساتذہ سے کہا، “آج آپ کے کورس کا آخری دن ہے، کل آپ کے مشن کا پہلا دن ہے۔”فیفا کے سینیئر فٹ بال فار سکولز منیجر انتونیو بویانو سانچیز نے کہا کہ اس پروگرام میں پاکستان کے نوجوانوں پر بڑے پیمانے پر مثبت اثر ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے اور انہوں نے پی ایف ایف کو اس اقدام کے آغاز پر مبارکباد دی۔سانچیز نے بتایا کہ فٹ بال فار سکولز پہلے ہی 154 ممالک میں بچوں تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں تربیت حاصل کرنے والے 50 سے زائد ماسٹر ٹرینرز اپنے اضلاع میں واپس جاکر مزید اساتذہ کو تربیت دیں گے، جس کے نتیجے میں مختصر مدت میں تقریباً 450 تربیت یافتہ افراد کا نیٹ ورک قائم کیا جاسکتا ہے۔ فیفا پاکستان میں اساتذہ کے لیے فٹ بال فار سکولز کی موبائل ایپ اردو زبان میں بھی دستیاب کرے گی۔سانچیز نے کہا کہ ٹیلنٹ پاکستان کے کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔
“ٹیلنٹ ہر جگہ موجود ہے۔” انہوں نے کہا اگر پاکستان بھر کے بچوں کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو ان میں سے کئی مستقبل میں ملک کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔تاہم، انہوں نے کہا کہ اس کے لیے درست طریقہ کار اور مضبوط نظام ضروری ہے، جس کی تشکیل کے لیے فیفا پی ایف ایف کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
پی ایف ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد کھوکھر نے کہا کہ اس پروگرام کے اثرات صرف بچوں کو فٹ بال کھیلنے کے مواقع فراہم کرنے تک محدود نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں فٹ بال کے کلچر کو فروغ دینے اور شائقین کی تعداد بڑھانے میں بھی مدد دے گا، جس سے مستقبل میں کھیل کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے امکانات پیدا ہوں گے۔پی ایف ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر عدیل رزقی نے کہا کہ تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ اب اپنے اضلاع میں واپس جاکر دیگر اساتذہ کو تربیت دیں گے۔“یہ پہلا مرحلہ ہے، اور ہم بتدریج ان سکولوں اور اضلاع کی تعداد میں اضافہ کریں گے جنہیں اس پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا،” رزقی نے کہا کہ فیفا ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ اسکیم جنوری 2027ء میں شروع کی جائے گی، جس کے ذریعے فٹ بال فار سکولز سمیت مختلف پروگراموں سے سامنے آنے والے کم عمر کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی تربیت کے لیے ایک باقاعدہ نظام قائم کیا جائے گا۔پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے اور دفتر کے سربراہ فواد پاشایف نے کہا کہ فٹ بال نوجوانوں کی ترقی اور معاشرتی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسکو نوجوانوں کو کھیل کے ذریعے متحرک کرنے اور معاشرتی تبدیلی کے فروغ کے لیے 15 اضلاع میں پی ایف ایف کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔FIFA کے سینیئر ممبر ایسوسی ایشنز ڈویلپمنٹ منیجر آندرے واشکیوچ نے کہا کہ فٹ بال فار سکولز کا مقصد بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو کھیل میں شامل کرکے ملک کے فٹ بال نظام کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں فٹ بال کی سرگرمیوں کے دوبارہ فروغ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کھیل کی ترقی کے لیے فیفا کے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن اور رکن قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول نے کھیل کے ذریعے بچوں کی کلاس روم سے باہر شخصیت سازی کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا، “میں ایک ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے یہاں موجود ہوں اور میرا یقین ہے کہ تعلیم کا مقصد بچے کی شخصیت کو کلاس روم سے باہر بھی پروان چڑھانا ہے۔” انہوں نے پروگرام میں لڑکیوں کی بھرپور شمولیت یقینی بنانے پر بھی زور دیا تاکہ انہیں فٹ بال کے ذریعے اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مساوی مواقع مل سکیں۔فٹ بال فار سکولز کے ذریعے پاکستان بھر کے بچوں کو فٹ بال کھیلنے کے ساتھ ساتھ اعتماد، ثابت قدمی، دوستی اور قائدانہ صلاحیتیں پروان چڑھانے کا موقع ملے گا، جبکہ یہ پروگرام ملک میں فٹ بال کے وسیع اور پائیدار نظام کی بنیاد مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔




