آئی ایم ایف کا 2010ء پروگرام دو فیصد ،حالیہ پروگرام 5 فیصد سود پر لیا گیا، اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک حکام 2008ء اور 2010ء کے پروگرام کا مکمل قرض واپس کر دیا گیا ہے،اسٹیٹ بینک حکام-فوٹو: فائل

اب تک آئی ایم ایف سے 21260 ملین ایس ڈی آر قرض لیا گیا، آئی ایم ایف کو واپس کرنے والا قرض 6369 ملین ایس ڈی آر رہ گیا ہے، 6.3 ارب ڈالر سے زیادہ کا قرض تین سے پانچ سال میں واپس کرنا ہے
آئی ایم ایف کو قرض پر ٹوٹل 2439 ملین سود ادا کیا گیا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ ٹوٹل 28 پروگرام کیے گئے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ 24 فل ٹائم، چار ون ٹائم پروگرام کیے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں آئی ایم ایف کے قرضوں اور سود کی تفصیلات پیش کردی گئیں جس میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کا 2010ء کا پروگرام دو فیصد سود جبکہ حالیہ پروگرام 5 فیصد سود پر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آئی ایم ایف سے قرضوں اور سود کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کردی گئیں۔وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پہلا پروگرام 1958ء میں کیا گیا۔ جوائٹ سیکریٹری فنانس نے کہا کہ اب تک آئی ایم ایف سے 21260 ملین ایس ڈی آر قرض لیا گیا، آئی ایم ایف کو واپس کرنے والا قرض 6369 ملین ایس ڈی آر رہ گیا ہے، 6.3 ارب ڈالر سے زیادہ کا قرض تین سے پانچ سال میں واپس کرنا ہے۔حکام وزارت خزانہ نے کہا کہ اب تک آئی ایم ایف کو قرض پر ٹوٹل 2439 ملین سود ادا کیا گیا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ ٹوٹل 28 پروگرام کیے گئے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ 24 فل ٹائم، چار ون ٹائم پروگرام کیے۔اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ 2008ء اور 2010ء کے پروگرام کا مکمل قرض واپس کر دیا گیا ہے، ان دونوں پروگرامز پر آئی ایم ایف کو 1.58 فیصد سود دیا گیا، 2023ء کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پر 5.09 فیصد سود ہے، 2008ء سے 2023ء کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ 6 پروگرام کیے گئے۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ 1958 میں تو پاکستان نے جرمنی کو قرض دیا تھا۔ چیئرمین کمیٹی نے بھی پوچھا کہ 1958 میں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی کیوں ضرورت پیش آئی؟

حکام اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس وقت ایمپورٹ ایکسپورٹ بیلنس کم تھا، بیلنس آف پیمنٹس کیلئے ہی آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے۔کامل علی آغا نے پوچھا کہ اس سال آئی ایم ایف کو کتنی ادائیگیاں کرنی ہیں؟ اس پر اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ یہ تفصیلات ابھی ہمارے پاس نہیں ہیں پتا کرکے بتا دیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں