آؤ اپنا یہودی اقلیت سے موازنہ کریں

تجزیہ: ڈاکٹر عبدالودودقریشی ( ستارہ امتیاز)

دنیا کی کل آبادی تقریباً 8.1 ارب ہے، جبکہ پوری دنیا میں یہودیوں کی مجموعی آبادی صرف 1 کروڑ 55 لاکھ کے قریب ہے، یعنی عالمی سطح پر یہودی محض 0.19 فیصد بنتے اس کے باوجود یہودی دنیا کی سب سے زیادہ بااثر، طاقتور اور منظم اقوام میں شمار ہوتے ہیں. کیوں کہ یہودی قوم نے اپنی بقاء کے لیے ہمیشہ علم، تحقیق، منصوبہ بندی، اور اتحاد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اپنے ملک میں ووٹ کا احترام اور آزادی اظہار دی شدت پسندی کو لگام دی ، ہر مقدمے کا چھ پیشی پر مکمل فیصلہ ، کوئی مقدمہ عدلیہ میں زیر التواء نہیں ، جج کی سالانہ دو دو ماہ چھٹی نہیں ،اسلحہ رکھنے اور بلٹ پروف گاڑی رکھنے کی حوصلحہ افزائی کوئی ٹیکس نہیں پاکستان میں اسلحہ پر بھاری فیس بلٹ پروف پر ایک لاکھ روپیہ سالانہ فیس لی جاتی ہے اشرافیہ کیلئے سرکاری گارڈ حکومت کی بلٹ پروف گاڑی مرمت مفت اور بغیر اجازت بلٹ پروف گاڑی رکھنے پر کوئی پوچھ نہیں ۔ دو دو ڈالے جب چاہیں کسی کے گھر کھس جائیں فرنیچر توڑ دیں کوئی پوچھ نہیں اور عدلیہ خاموش ۔ان کے ہاں تعلیم کو مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے، ادھر تعلیم تجارت انڈر میٹرک تعلیمی اداروں کے ڈائریکٹر ، سرکاری سکولوں میں جانور باندھے جاتے ہیں ، گرین بیلٹ پر قبضہ ،اسرائیل میں معاملہ پی ایچ ڈی سے شروع ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ سائنس، میڈیکل، ٹیکنالوجی، معیشت، فلسفہ، اور میڈیا جیسے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکا ۔ نوبل انعام یافتہ افراد میں یہودیوں کا تناسب حیرت انگیز حد تک بلند ہے، جو ان کی فکری اور علمی برتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہودی قوم کی سب سے بڑی طاقت ان کی عالمی سطح پر مربوط نیٹ ورکنگ ہے۔ امریکہ میں یہودیوں کی آبادی تقریباً 70 لاکھ ہے، مگر ان کا اثر و رسوخ امریکی کانگریس، عدالتوں، میڈیا، تعلیمی اداروں اور مالیاتی اداروں میں بہت زیادہ ہے۔ AIPAC جیسے ادارے امریکی خارجہ پالیسی پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں، جس کا فائدہ ہمیشہ اسرائیل کو پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل، جس کی آبادی صرف ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے، دنیا کی جدید ترین افواج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ہتھیاروں کی طاقت رکھتا ہےاسرائیل کی دفاعی اور سکیورٹی پالیسیوں میں “پری ایمپٹیو اسٹرائیک” اور “سافٹ وار” جیسے جدید حربے شامل ہیں، جن کے ذریعے وہ نہ صرف دشمنوں کو عسکری طور پر زیر کرتا ہے بلکہ میڈیا، ڈپلومیسی، اور سائبر وار کے ذریعے بھی اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ جس طرف افواج پاکستان خصوصی فضائیہ نے توجہ دی ہے موساد اور شین بیتھ جیسی خفیہ ایجنسیاں پوری دنیا میں سرگرم ہیں انکی توجہ دنیا پر ہوتی ہے اندرونی سیاست میں مداخلت عمر قید پاسپورٹ ضبط ، اور کئی ممالک میں تبدیلیِ حکومت یا حساس ٹیکنالوجی تک رسائی کے پیچھے ان کا ہاتھ ہوتا ہے انکا وزیر اعظم عوامی طاقت سے بے خوف اور با جرات ہوتا ہے جو در اصل مسلمانوں کی میراث ہے ۔عالمی بینکاری نظام اور مالیاتی اداروں پر بھی یہودیوں کا گہرا اثر ہے۔ دنیا کا ہر یہودی آمدن کا دس فیصد اسرائیل حکومت کو دیتا ہے اور ہر اسرائیلی کا ایک فرنش فلیٹ اسرائیل میں ہے جس پر کوئی سروس چارجز نہیں ہیں. ہم پاکستانی بنگالیوں ( رضا کار ) کو پاکستان کا ویزا نہیں دیتے جو ادھر ہیں انکو شناختی کارڈ نہیں دیتے انکے بچے اسی بدولت سکول داخلے سے محروم ہیں ،کوئی بیرون ملک سے فلیٹ یا پلاٹ لے تو اس پر قبضہ کر لیا جاتا ہے، سرکاری ملازمین کی اشیر باد یا وہ خود ملازمین کر لیتے ہیں اور پھر اسے پاکستان آنے سے روکنے کیلئے قتل تک کے بے بنیاد مقدمات بنا دیتے ہیں جبکہ مقتول بھی زندہ ہوتا ہے ۔اسرائیل کے روتھچائلڈ خاندان جیسے مالیاتی ادارے گزشتہ دو صدیوں سے دنیا کی معیشت پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹس، انشورنس کمپنیوں، اور انویسٹمنٹ بینکوں میں ان کا کنٹرول انہیں دنیا کے فیصلوں میں شریک بناتا ہے۔ پاکستانی ڈاکٹر نے امریکہ میں اسی طرح کی تنظیم بنائی ہم نے حکومتی سطح پر ذاتی مفاد کیلئے شودر بنا دیا ۔ اسرائیلی حکومت پسِ پردہ رہ کر عالمی سیاست اور معیشت کی سمت متعین کرتے ہیں ہر یہودی کا اسرائیل میں ایک بنک اکاؤنٹ ہے جو کبھی بند ( Dormant ) نہیں ہوتا پاکستان میں ایک سال اکاؤنٹ استعمال نہ کرنے پر ساری رقم ہضم اکاؤنٹ بند ،ہر یہودی کو اپنا سمجھا اور بنایا جاتا ہے ،ہم ہر دوسرے پاکستانی کو یہودی کا خطاب دیتے ہیں، یہودی قوم نے “اقلیت” کی حیثیت سے ہمیشہ دنیا کی ہمدردی حاصل کی۔ ہولوکاسٹ کے بیانیے کو عالمی میڈیا اور نصاب تعلیم کے ذریعے اس طرح زندہ رکھا گیا کہ دنیا بھر میں یہودیوں کو مظلوم اور معصوم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی بیانیے نے انہیں نہ صرف اخلاقی برتری دی بلکہ یورپ اور امریکہ میں قانونی و مالیاتی مراعات بھی دلوائیں۔نتیجہ یہ ہے کہ یہودی قوم نے اپنی عددی قلت کو کبھی رکاوٹ نہیں بننے دیا اپنی افرادی قوت میں اضافہ کیا ،انہوں نے علم، اتحاد، مالیات، میڈیا اور منصوبہ بندی کو اس انداز میں استعمال کیا کہ دنیا کے فیصلوں اور سپر پاور پر اثر انداز ہونے لگے ، پاکستان کو اگر دنیا میں باعزت مقام حاصل کرنا ہے تو انہیں یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا: اپنے لوگوں کو آزادی ، اظہار رائے کا احترام ،ووٹ کا تقدس ،علم، خودی، اتحاد ، عمل ،تنظیم یقین محکم جسکا درس قائد اعظم دے گئے پر عمل کرنا ہوگا. ہر پاکستانی کا بیرون ملک نہیں پاکستان میں گھر پر فخر کرنا ہوگا ، نان فائلر کی جگہ بیرون ممالک جائداد رکھنے والوں پر پابندیاں اورٹیکس دگنا کرنا ہوگا ، خدا رایہودی اقلیت سے موازنہ کر کے کچھ بدلاؤ لائیں یہ کام آج سے ہی شروع کیا جا سکتا ہے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں