اسلامی معاشرہ اور فرد کی عزت نفس
تحریر:احمدخان اعوان
دوسروں کے عیب تلاش کرنا اور انہیں بے نقاب کرنا نہ صرف اخلاقی کمزوری کی علامت ہے بلکہ یہ انسان کو روحانی تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا، اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا (صحیح مسلم)۔ اللہ سبحان و تعالی انصاف کرنے والا ہے اور دلوں کی نیتوں سے واقف ہے، اس لیے جو دوسروں کے لیے برائی کا ارادہ کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے خلاف برائی کا سامان کر رہا ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمان اللہ رب العزت ہے : وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ” اور بُری چال صرف اس کے چلنے والے ہی کو گھیرتی ہے”۔ (سورہ فاطر آیت نمبر 43 ) – اگر ہم کسی کے عیب سے واقف ہوں تو اس کا پردہ رکھنا اور خیرخواہی سے اصلاح کی کوشش کرنا بہتر ہے، کیونکہ جو آج دوسروں کو رسوا کرتا ہے، کل وہ خود بھی اللہ جل جلالہ کے سامنے بے نقاب ہو سکتا ہے۔ پردہ پوشی نہ صرف ایک نیکی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور اللہ کی رضا کا ذریعہ بھی ہے-




