مخلص لوگوں کوکبھی مت بھولیں
تحریر:ںعیم روحانی
زبان سے دُکھ سن کر سمجھنا آسان ہوتا ہے مگر چہرے کے پیچھے چھپا درد سمجھنا مخلصی اور دل کی گہرائی مانگتا ہے۔ ایسے لوگ جو بغیر کسی مفاد کے آپ کے دکھ میں شامل ہوتے ہیں، وہی اصل رشتے دار اور دوست ہوتے ہیں جن کی قدر کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں خود غرضی اور مطلب پرستی عام ہے، جہاں لوگ صرف اپنی ذات اور فائدے میں لگے رہتے ہیں، اس لیے سچے اور نیک دل لوگ نایاب ہو چکے ہیں۔ لیکن مخلصی، محبت اور دوسروں کے لیے بے لوث جذبہ ہر رشتے کی بنیاد ہے، جو ہمیں انسانیت سے جوڑے رکھتا ہے۔زبان سے بیان کیا دُکھ تو ہر کوئی سُن لیتا ہے۔ چہرے کے پیچھے چُھپا درد محسوس کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔جب ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس ہی نہ ہو تو پھر وہ رشتہ کس کام کا ۔؟ خوشی میں تو سب ہی موجود ہوتے ہیں۔جو لوگ آپکے دُکھ کی گھڑی میں آپکے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں انہیں کبھی مت بھولیں۔۔وہی لوگ مخلص ہوتے ہیں۔باقی لوگوں کی طرح اُنہیں بدلے میں آپ سے کچھ نہیں چاہئے ہوتا۔۔حالات جیسے بھی ہوں۔۔وہ صرف آپکا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔اُنہیں صرف آپکی خوشی عزیز ہوتی ہے۔ آپکے چہرے کی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے ان کی روح کو سکون ملتا ہے۔۔آپکی خوشی دیکھ کر ان کے چہرے کی رونق میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ایسے نایاب لوگ جہاں بھی ملیں۔۔ان کی قدر کرنا سیکھیں ۔ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اچھی کتابیں اور اچھے دل والے لوگ ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتے یہی وجہ ہے کہ اچھی کتابیں اکثر گرد آلود اور اچھے دل والے لوگ اکثر ٹھوکروں کی زد میں رہتے ہیں۔ مختصر رہیں لیکن مخلص رہیں۔خوبصورت ہے ہر وہ انسان جو آج کے خود غرض زمانےمیں بنا مطلب کے اپنائیت والے لفظ بول کر.اُداس چہروں میں مُسکراہٹ لے آئیں۔زبان سے دُکھ سن کر سمجھنا آسان ہوتا ہے مگر چہرے کے پیچھے چھپا درد سمجھنا مخلصی اور دل کی گہرائی مانگتا ہے۔ ایسے لوگ جو بغیر کسی مفاد کے آپ کے دکھ میں شامل ہوتے ہیں، وہی اصل رشتے دار اور دوست ہوتے ہیں جن کی قدر کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں خود غرضی اور مطلب پرستی عام ہے، جہاں لوگ صرف اپنی ذات اور فائدے میں لگے رہتے ہیں، اس لیے سچے اور نیک دل لوگ نایاب ہو چکے ہیں۔ لیکن مخلصی، محبت اور دوسروں کے لیے بے لوث جذبہ ہر رشتے کی بنیاد ہے، جو ہمیں انسانیت سے جوڑے رکھتا ہے۔




